پانچویں بیعت کے لئے یہ ضروری عقیدہ ہے کہ شرک سے بکلی پرہیز کرے اگر یہ تمام عقائد کسی شیعہ میں پائے جاویں تو بلاشبہ اس کی حالت اچھی ہے اور وہ اس لائق ہے کہ بیعت میں داخل ہو۔
بیعت کے مقاصد میں سے ایک بھاری مقصد یہ ہے کہ انسان راہ راست پر آوے اور خدا تعالیٰ کے غضب سے ڈر کر ہر ایک طریق نا انصافی کو چھوڑ دے جو شخص عمداًنا انصافی پر جما رہنا چاہتا ہے وہ دراصل حقیقت بیعت سے غافل ہے ہم اس مسافر خانہ میں تھوڑے عرصہ کے لئے آئے ہیں اور اس غرض سے بھیجے گئے ہیں کہ اپنے اخلاق اور عقاید اور اعمال کو درست کر کے اور حسب مرضیات الہی اپنے نفس کو بنا کر اس مولیٰ کریم کی رضا مندی حاصل کریں۔ سو ہر ایک بات میں یہ دیکھ لینا چاہئے کہ کیا ہمارے قول اور فعل ظلم و زیادتی سے خالی ہیں۔ باہم انصاف کا خون کر رہے ہیں جن بزرگ لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ضعف و نا توانی اور تنہائی او رغربت کے ایام میں آن جناب کی رفاقت اختیار کی ا س رفاقت اور اس ایمان کے پاس کے لئے بڑی بڑی تکلیفیں اٹھائیں اپنی ریاستوں ملکیتوں سے بے دخل کئے گئے وطن سے نکالے گئے اور اعلاء کلمہ اسلام کے لئے صد ہانے اپنے تئیں معرض ہلاکت میں ڈالا ان کی شان کو جیسا چاہئے نہ سمجھنا سخت درجہ کی ناانصافی ہے درحقیقت اگر ہم انصاف سے دیکھیں اور عدالت کی نگاہ سے نظر کریں تو ہمیں اقرار کرناپڑے گا کہ وہ لوگ اعلیٰ درجے کے مقدس ہیں ہر ایک شخص کی فضیلت باعتبار اس کے حسن خدمات کے اور ذاتی لیاقتوں کے ہوا کرتی ہے۔ سو جیسے صحابہ کرام کی فضیلت اس قاعدہ