جو نہ ملا توبس اُس کو کفر کا نشانہ بنایا۔ یہ تینوں مثلث مولوی اس آیت کے مصداق تھے کہ اِنْطَلَقُوْا الٰی ظِلٍّ ذِیْ ثلٰثِ شُعُبٍ لَا ظَلِیلَ وَلَا یُغْنُی مِنَ اللھَبَ۔چلو اُس تین رخے سایہ کی طرف جس میں ……………ہے اورنہ گرم لپٹ سے بچاؤ کی کوئی صورت ہے ……… اُس زمانہ میں حضرت اقدس علیہ السلام کی مخالفت میں ایک قیامت برپا کررکھی تھی۔ ان مولویوں کو بھی خبر نواب صاحب کی وصیت نماز جنازہ پہنچ چکی تھی۔ ان مولویوں اورمعتقدوں نے نواب صاحب کے اقربا کو کہلا بھیجا کہ اگر مرزا (امام موعودعلیہ السلام) جنازہ پر آیا تو ہم اورکوئی مسلمان جنازہ پر نہ آئیں گے اور تم پر کفر کا فتویٰ لگ جاوے گا اور آئندہ تم میں سے جومرے گا تو نماز جنازہ کوئی نہ پڑھے گا۔ وہ بیچارے ڈرگئے اوریہ خیال نہ کیا کہ ان یہود صفت مولویوں کی کیا مجال ہے کہ ایسا کرسکیں کیا یہ ہمیشہ زندہ رہیں گے اورکیا اور کوئی بندہ خدا کا نماز جنازہ پڑھانے والا نہ ملے گا اورحضرت اقدس علیہ السلام کے مرید لودہانہ میں نہیں ہیں۔ ان کی کمزوری اورضعف ایمانی نے ان کو ڈبودیا ۔وہ مرحوم بھی ان سے متنفرتھا اورجب ان مولویوں کا ذکر کبھی ان کے روبرو کوئی کرتا تومرحوم کی پیشانی پر بَل پڑجاتے تھے اور وہ اُن کو بدتر سے بدتر خیال کرتا تھا۔ ان اشرالناس مولویوں کی نماز سے توبے نماز ہی جنازہ رہتا تو بہتر تھا اس لئے کہ مسیح وقت علیہ السلام خود دعائیں کرچکا اورمرحوم دعائیں کراچکااورنماز جنازہ بھی توایک دعاہی ہے۔ ایمان ایک ایسی شے بے بہا ہے کہ کوئی شے اس کو دُورنہیں کرسکتی۔ حضرت اقدس علیہ الصلوٰہ والسلام