ہر قسم کے تصرف سے بکلی محفوظ ہے اور کوئی ایسا قراں نہیں جو کوئی شخص اس کو غار میں لے کر اب تک چھپا بیٹھا ہے یہ ان لوگوں کا بہتان ہے جن کو خدا تعالیٰ کا خوف نہیں۔ چوتھے یہ عقیدہ ضروری ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت فاروق عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ او ر حضرت ذوالنورین رضی اللہ عنہ اور حضرت علی مرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سب کے سب واقعی طور پر دین میں امین تھے ابوبکر اللہ تعالیٰ عنہ جو اسلام کے آدم ثانی ہیں اور ایسا ہی عمر فاروق اورحضرت عثمان رضی اللہ عنہا اگر دین میں سچے امین نہ ہوتے تو آج ہمارے لئے مشکل تھا جو قرآن شریف کی کسی ایک آیت کو بھی منجانب اللہ بتا سکتے۔
بلاشبہ یہ سچ بات ہے کہ ہم قرآن شریف سے اسی قدر محبت اور عشق پیدا کریں گے جس قدر ہمیں ان بزرگوں کے امین ہونے کی نسبت ہو گا اگر ہم ذرا بھی کمالات ایمانیہ میں ان کو کم سمجھیں گے تو اتنی ہی کمی قرآن شریف کی عظمت کے بارہ میں ہمارے دلوں میں پید اہو جائے گی یہی وجہ ہے کہ جس پیار سے اور محبت سے سنت جماعت کے لوگ قرآن شریف کو پڑھتے ہیں اور بعض ان کے حفظ کر لیتے ہیں یہ بات شیعہ لوگوں میں ہر گز نہیں پائی جاتی۔ مثلاً مجھے تخمیناً معلوم ہے کہ ہمارے ملک پنجاب میں ایک لاکھ سے زیادہ سنت جماعت میں سے قرآن شریف حافظ ہو گا مگر کیاکوئی اس بات کا ثبوت دے سکتا ہے کہ اس ملک میں شیعہ لوگوں میں سے دس پندرہ بھی حافظ ہیں؟ مگر میرے خیال میں ایک حافظ بھی نہیں اس کا کیا سبب ہے؟ وہی ابوبکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہم پس اس سے معلوم ہوا کہ ان بزرگوران کو بنظر تخفیف دیکھنے میں سرا سر ایمان کا گھاٹا ہے۔ والعاقل تکصیۃ الاشارۃ۔