صداقت پر اپنے خون سے مہریں کر کے اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ بلاشبہ ان کی فضیلت کو بعد میں آنے والی نہیں پا سکتے وذالک فضل اللہ یو تیہ من یشاء مگر اس کے سوا ہر ایک کمال کے حاصل کرنے کے لئے دروازے کھلے ہیں خدا تعالیٰ کے مقبول اور نہایت اعلی درجے کے پیارے بندے اور امام الوقت اور خلیفہ اللہ فی الارض اب بھی ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے پہلے ہوئے تھے اور اب بھی خد اتعالیٰ کے انعام و اکرام کی وہ راہیں کھلی ہیں جو پہلے کھلی تھیں۔ نبوۃ و رسالت بھی ظلی طور پرحاصل ہو سکتے ہیں جس قدر سالک کی استعداد ہو گی ضرور پر تو وہ نور کا پڑے گا زندہ اسلام اسی عقیدہ کا نام ہے مگر جو لوگ امانت و خلافت و صدیقت کو پہلے اماموں پر ختم کر چکے ہیں ان کے ہاتھ میں اب مردہ اسلام ہے یا یوں کہو کہ اسلام کی بیجان تصویر ان کے ہاتھ میں ہے یاد رکھنا چاہئے کہ جو مذہب آیندہ کمالات کے دروازے بند کرتا ہے۔ وہ مذہب انسانی ترقی کا دشمن ہے۔ قرآن شریف کی رو سے انسان کی بھاری دعا یہی ہے کہ وہ روحانی ترقیات کا خواہاں ہو غور سے پڑھنا چاہئے ا س آیت کو اھد نا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیھم۔ دوسرے یہ عقیدہ بھی ضروری ہے کہ مجرو کسی قسم کی رشتہ سے خواہ کسی رسول سے ہو کوئی فضیلت حاصل نہیں ہو سکتی بلکہ فقط رشتہ کی فضیلت پر ناز کرنا نامردوں کا کام ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اور ذوالقبربی میں سے ہر ایک شخص جو قابل تعریف ہے وہ رشتہ کے لحاظ سے ہر گز نہیں وقال اللہ تعالیٰ ان اکرم عنداللہ اتفاکم۔ تیسرے یہ عقیدہ بھی ضروری ہے کہ قرآن شریف اب تک