یہ ضروری نہیں کہ وہ حنفی ہو یا شافعی وغیرہ وغیرہ۔ مگر یہ نہایت ضروری ہے کہ اللہ جل شانہ کے کلام عزیز پر ایمان لاوے اور جہاں تک ممکن ہو اس پر عمل کرے اور آثار صحیحہ نبویہ کا اتباع کرے (۲)بیعت کرنے والے کے لئے ان عقاید کا ہونا ضروری ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رسول برحق اور قرآن شریف منجانب اللہ کتاب او رجامع الکتب ہے کوئی نئی شریعت اب نہیں آسکتی او رنہ کوئی نیا رسول آسکتا ہے مگر ولایت اور امانت او ر خلافت کی ہمیشہ قیامت تک راہیں کھلی ہیں اور جس قدر مہدی دنیا میں آئے یا آئیں گے ان کاشمار خاص اللہ جل شانہ کو معلوم ہے وحی رسالہ ختم ہوگئی مگر ولایت و امامت و خلافت کبھی ختم نہیں ہو گی۔ یہ سلسلہ ائمہ راشدین او رخلفاء ربانیین کا کبھی بند نہیں ہو گا۔کسی کو گزشتہ لوگوں میں بجز رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے جمیع فضائل و کمالات میںبے مثل نہیں کہہ سکتے اور ممکن نہیں کہ کسی کمال نوع کی خدمت گزاری میں آئندہ اس سے بہتر پید اہوں جزئی فضلیت کے لحاظ سے بعض لوگ بے مثل ٹھہر سکتے ہیں جیسے صحابہ او ر اہل بیت کی یہ فضیلت جو انہوں نے زمانہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پایا اور آنحضرتصلی اللہ علیہ وسلم کی تنہائی کے وقت میں ایسی وفاداری دکھلائی کہ اپنے خونوں کوپانی کی طرح بہا دیا آنحضرت کے چہرہ مبارک کو دیکھا او راسی چہرہ سے عاشقانہ زندگی بسر کی اور اسلام پر پہلے پہل مخالفوں کے حملے ہوئے تو جانوں کو ہتھیلی پر رکھ کر ان کو روکا او راسلام کو زمین پر جمایا اور اسلامی ہدایتوں کو زمین پر پھلایا اور کفر کے زور کو مٹایا اور قرآن کریم کو دیانت اور امانت سے جمع کر کے تمام ملکوں میں رواج دیا اور اسلام کی