ایک لحظ میں پھر تخت پر بٹھاتاہے اس جگہ یہ کہنا کفر ہے کہ کیوں کہ اور کس طرح اور ایسے اوہام کا جواب یہی ہے کہ جس طرح ایک قطرہ نطفہ سے انسان کو پید اکیا الم تعلم ان اللہ علی کل شی قدیر نابینائی اور شک اور بدظنی کی وجہ سے تمام دکھ پید اہوتے ہیں ورنہ وہ ہمارا خدا عجیب قادر بادشاہ ہے جو چاہے کرے کوئی بات اس کے آگے انہونی نہیں اگر یقین کی لذت پید اہو جائے تو شاید انسان دنیا طلبی کے ارادوں کو خود ترک کر دے کیونکہ اس سے بڑھ کر کوئی لذت نہیں کہ اس بات کو آزما لی جائے کہ درحقیقت خدا موجود ہے اور در حقیقت وہ قادر ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے وہ کریم و رحیم ہے ان لوگوں کو ضائع نہیں کرتا جو اس کے آستانہ پر گرتے ہیں۔ والسلام مرزا غلام احمد ۷؍ جولائی ۱۹۰۲ء