روپیہ اداکردے گا تو قبل پہنچے روپیہ کے جس قدر اس کو کشاکش ہو رہی ہے وہ اس کی نظر میں ایک معمولی ہو جائے گا اور چہرہ پر افسردگی نہیں رہے گی ایسا ہی وہ شخص جو یقین رکھتا ہے کہ خد اتعالیٰ مجھے ضائع نہیں کرے گا اور بلاشبہ ضائع نہیں ہو گا اس میں تو انسان ایک حد تک معذور رہتا ہے جیسا کہ کسی کی موت پر غم آتا ہے اس میں تو انبیاء بھی شریک ہوتے ہیں جیسا کہ حضرت یعقوب یوسف کی جدائی میں چالیس برس تک روتے رہے وہ بشریت کا غم تھا۔ مگر ایک ضعف ایمان کا غم ہوتا ہے جیسا کہ کوئی نادان یہ غم کرے کہ اب میر اکیا حال ہو گا کیونکہ مجھے روٹی اور کپڑا ملے گا عیال کا کیا حال ہو گا اس غم سے انسان تو بہ نہ کرے تو کافر ہو جاتا ہے کیونکہ اپنے رازق کا منکر ہے دعا کا سلسلہ خوب سرگرمی سے جاری ہے ہر ایک ساعت خدا تعالیٰ کے فضل کی امید ہے۔ والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی اللہ عنہ ۱۰۰/۱۹۳ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ عنایت نامہ پہنچا۔ یہ سچ ہے کہ بنا ہو اکام بگڑنے سے اور وسائل معاش کے کم یا معدوم ہونے کی حالت میں بے شک انسان کو صدمہ پہنچتا ہے مگر وہی بگاڑتا ہے۔ وہی بنانے پر بھی قادر ہے پس دنیا میں شکستہ دلوں کی اور تباہ شدہ لوگوں کے خوش ہونے کے لئے ایک ہی ذریعہ ہے کہ ا س خد ائے ذوالجلال کو ایمانی یقین کے ساتھ یاد کریں کہ جیسا کہ وہ ایک دم میں تخت پر سے خاک ندنست میں ڈالتا ہے ایسا ہی وہ خاک پر سے