دعاء سلامتی ایمان اورنجات آخرت کے لئے ایک آدمی حضرت اقدس کی خدمت میں بھیجا اورجوں جوں وقت آتا جاتا تھا۔ آدھ آدھ گھنٹہ اوردس دس منٹ کے بعد آدمی بھیجتے رہے اورکہتے رہے کہ میں بڑا خوش ہوں کہ آپ آخیر وقت میں لودہانہ تشریف رکھتے ہیں اورمجھے دعا کرانے کا موقع ملا۔پھر بیہوشی طاری ہوگئی لیکن جب ذرا بھی ہوش آتا توکہتے کہ حضرت مرزا صاحب کی خدمت میں آدمی جاوے اورعاقبت بخیر اوراچھے انجام کے لئے عرض کرے اورجب حالت نزع طاری ہوئی تویہ وصیت کی کہ میرے جنازہ کی نماز حضرت مرزا صاحب پڑھائیں تاکہ میری نجات ہو۔اِدھر حضرت اقدس بھی نواب صاحب کے لئے بہت دعائیں کرتے رہے اورہربار آدمی سے یہی فرماتے رہے کہ ہاں ہاں تمہارے واسطے دعائیں کیں اورکررہا ہوں اور یہ وصیت نماز جنازہ بھی حضرت اقدس تک پہنچاد ی اورنواب صاحب مرحوم کا انتقال ہوگیا جب نواب صاحب کا انتقال ہوا تونواب صاحب کے اقربا۔ ان کی اولاد اوران کے بھائی مولویوں کے زیراثر اورمرعوب تھے اورمولوی محمد اورمولوی عبداللہ اورمولوی عبدالعزیز یہ تینوں حضرت اقدس علیہ السلام کے مکفر اورمکفرین اوّلین میں سے تھے۔ تینوں یہود صفت بلکہ ان سے بھی بڑھ چڑھ کر تھے اوراُس وقت سے مکفر اورسخت مخالف تھے کہ جب سے براہین احمدیہ شائع ہوئی تھی تمام مولوی خاموش یاموافق تھے۔ مگر یہ بدقسمت اور ایک بدبخت مولوی غلام دستگیر تصوری مخالف تکفیر کے علاوہ سُب وشتم کرنے والے تھے اوران مولویوں کی یہ عادت تھی کہ جومولوی درویش لودہانہ میں آیا اور ان سے مل لیا تو خیر اور