انسانوں کا ہے جن کو خد اتعالیٰ پر بہت بھروسہ ہوتا ہے۔ جو کبھی تھکتے نہیں آخر خدا تعالیٰ کی مدد کرتا ہے اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں ایک جگہ فرماتا ہے وظنوا انھم کذبوا۔ یعنی ہم نے نبیوں کو وعدہ مدد او رفتح کا دیا پھر مدت تک اس وعدہ کو التوا میں ڈال دیا یہاں تک کہ مومنوں نے یہ خیال کیا کہ خدا تعالیٰ نے بولا اور جھوٹا وعدہ دیا اور اس کے کچھ آثار ہی ظاہر نہ ہوئے مگر آخر وقت تک وہ وعدہ پورا ہوا۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ کس قدر خوف کا مقام ہے کہ کچی طبیعت والوں پر یہ حالت بھی آجاتی ہے کہ وہ تہ تک کر خدا کے وعدہ کو بد ظن کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں اور جھوٹ خیال کرتے ہیں نہایت خوش وہ شخص ہیںجن میں تھکنے کا مادہ نہیں گویا ان میں پیغمبروں کی روح ہے حضرت یعقوب کو قسم دے کر گواہوں کے ساتھ یہ یقین دلایا گیا تھا کہ یوسف کو بھیڑیا کھا گیا مگر خدا کے وعدے میں وہ شک نہ لاوے اور جو بیس برس کے قریب مدت گزر گئی خدا کے وعدے نے کچھ بھی ظہور نہ کیا یہاں تک کہ گھر کے لوگ بھی حضرت یعقوب کو دیوانہ کہنے لگے لیکن آخر کار وہ سچا نکلا غرض سب کچھ انسان کر سکتاہے۔ لیکن صادقوں مومنوں کی طرح صبر کرنا مشکل ہوتا ہے خاص کر بے ایمانی ہوا جوہر طرف سے چل رہی ہے جس نے خدا کی طرف کو بے عزت کر دیا ہے وہ اکثر دلوں پر زہریلہ اثر دکھاتی ہے آخر کمزور انسان تھک کر ان میں سے ایک ہو جاتا ہے اور خدا سے جد اہو جاتاہے لیکن مومن کے لئے عہد شکنی سے مرنا بہتر ہے مومن کا خدا کے ساتھ ایمانی عہد ہوتاہے اور جب خدا تعالیٰ کا بھروسہ