۹۷/۱۹۰ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ کل کی ڈاک میں آپ کا عنایت نامہ پہنچا اس جگہ قدر بارشیں ہیں کہ گویا نہیں تا دم تحریر راہ یعنی سڑک کے بٹالہ سے قادیان آتی ہے صاف ہے اس لئے میں آپ کو اجازت دیتا ہوں کہ توکلاً علی اللہ بلا توقف سفر اس طرف کا کریں۔ خدا تعالیٰ خیرو عافیت سے آپ کو پہنچائے آمین باقی سب طرح سے خیریت ہے۔ والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ ۵؍ اگست ۱۹۰۵ء ۹۷/۱۹۱ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ آپ کاعنایت نامہ پہنچا جیساکہ میں پہلے ہی لکھ چکا ہوں ۔ آپ کے لئے بہت دعا کی جاتی ہے اور یقین رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ آپ کو ضائع ہونے سے بچا لے گا کہ وہ کریم و رحیم ہے آپ کا اپنی جماعت کے ساتھ اختلاط اور مصالحت یہ آپ کی رائے پر موقوف ہے۔ اگر ایسی مصالحت میں کوئی امر معصیت او رگناہ کا درمیان نہ ہو تو کچھ مضائقہ نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ الصلح خیر ورنہ اس وقت تک صبر کرنا چاہئے جب تک خدا تعالیٰ خود آسمان سے کوئی صورت بہیودی پیدا کر دے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے انسان اپنی کمزوری اور بے صبری سے آنے والی رحمت سے منہ پھیر لیتا ہے ورنہ خدا تعالیٰ کے وعدے سچے ہوتے ہیں۔ وہ ضرور وقت پر اپنی تمام باتیں پوری کر دیتا ہے کہ قادر ہے اور کریم ہے صبر سے ایک حد تک تلخی اٹھانا موجب برکات ہے مگر یہ کام بڑے خوش قسمت