لئے اس قدر جوش نہ بخشا۔ یہ خیال مت کرو کہ بربادی درپیش ہے یا بکلی ہو چکی ہے بلکہ اس خدا پر ایمان لائو جو ایک مردہ نطفہ سے انسان کو پیدا کر دیتا ہے۔ یہ باتیں مخص خیالی نہیں بلکہ ہم اس خدا کی قدرتوں اور معجزوں کے نمونے دیکھ چکے ہیں جس کے ہاتھ میں سب کچھ ہے اور انسان میں خامی اور بیدلی صرف اسی وقت تک رہتی ہے جب تک اس قادر خدا کریم کا کوئی نمونہ نہیں دیکھا ہے لیکن نمونہ کے دیکھنے بعد وہ قادر خدا اس شے سے زیادہ پیارا ہو جاتا ہے جس کو طلب کیا گیا تھا اس وقت یہ خدا کو تمام چیزوں پر مقدم رکھ لیتا ہے او پھر عمر بھر دوسرے چیز کے ہونے نہ ہونے سے کبھی غم کرتا نہیں کیونکہ اب وہ اپنے خدا کو ایک خزانہ جانتا ہے جس میں تمام جواہرات ہیں اسی کے موافق منوی رومی میں ایک حکایت لکھی ہے کہ ایک عاشق تھا جو اپنے عشق میں نہایت بیتاب تھا آخر ایک باخدا آیا اور اس کو مراد تک پہنچایا اور خدا کی طرف آنکھیں کھول دیں تب وہ اپنے اس چھوٹے معشوق سے برکشتہ وہ گیا اور اس مرد خدا کا دامن پکڑ لیا او ریہ کہا۔
گفت معشوقم تو بو د ستی نہ آن
لیک کا راز کارخیز درد جہان
خلاصہ ان تمام نصیحتوں کا یہی ہے کہ آپ وہ قوت ایمانی دکھلاویں کہ اگر اس قدر انقلاب اور انصاب مصائب ہو کر سر رکھنے کی جگہ باقی نہ رہے۔ تب بھی افسردہ نہ ہوں۔
زکا ربستہ منیدلیش ودل شکتہ مدارنہ کہ آب چشمہ حیواں اور دن تاریکست
خاکسار
مرزا غلام احمد
۲۳؍ مئی ۱۹۰۲ء