اور ضرور دل میں حسرت کریں گے کہ کاش میں نے جس قدر مصیبت پیش آمدہ پر صبر کیا اس سے زیادہ کرنا تب آپ کی معرفت بڑھ جائے گی اور جس طرح دنیا دار کی جان صرف جمیعت ہوتی ہے یہ بات نہیں رہے گی بلکہ آپ کے اندر ایک نئی روح آجاوے گی کیونکہ میری دعاؤں کے لئے یہ بھی ایک چیز ہے ۔ زیادہ خیریت۔
والسلام
خاکسار
مرزا غلام احمد ۱۶؍اگست ۱۹۰۶ء
۹۶/۱۸۹۔ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہ
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ،۔ عنایت نامہ پہنچا موجودہ حالات سے آپ ولگیر نہ ہوں اور نہ کسی گھبراہٹ کو اپنے دل تک آنے دیں۔ میں اپنی دعائوں کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ ہر گز خطا نہیں جائیں گی۔ اگر ایک پہاڑی اپنی جگہ سے ٹل جائے تو میں ا س کو ممکن مانتا ہوں مگر وہ دعائیں جو آپ کے لئے کی کئی ہیں وہ ٹلنے والی نہیں ہاں میرے خدا ئے کریم و قدیر کی یہ عادت ہے کہ وہ اپنے ارادوں کو جو دعائوں کے قبولیت کے بعد ظاہر کرنا چاہتا ہے اکثر دیر اور آہستگی سے ظاہر کرتا ہے تا جو بد بخت او رشباب کا رہیں وہ بھاگ جائیں اور اس خاص طور کے فیض کا انہیں کو حصہ ملے جو خدا تعالیٰ عزوجل کے دفتر میں سعید لکھے گئے ہیں اس لئے میں آپ کو کہتا ہوں کہ صبر سے انتظار کریں ایسا نہ ہو کہ آپ تھک جائیں اور وہ آپ کے لئے تخم بویا گیاہے وہ سب برباد ہو جائے۔ دنیا جلد تر آسمانی سلسلہ سے منہ پھیر لیتی ہے کیونکہ وہ نہیں جانتی کہ ایک خدا ہے جو ایک خاک کی مٹی کو سر سبز باغ کر سکتا ہے۔ اگر خدائے عزوجل کا آپ کے حق میں کوئی نیک ارادہ نہ ہو تو مجھے آپ کے