میں نے اس قدر آپ کے لئے دعائیں کی ہیں کہ اگر وہ ایک درخت خشک کے لئے کی جاتی تووہ بھی سبز ہو جاوے اور ابھی میں تھکا نہیں جب تک وہ فرشتہ ظاہر نہ ہو کہ جو قضاو قدر کے امر کو ظاہر ہوتا ہوا دکھلائی دیتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کی میرے ساتھ یہ عادت ہے کہ جب دعا انتہا کو پہنچ جاتی ہے تو آخر ایک فرشتہ نازل ہوتا ہے وہ اپنے ہاتھ سے اس روک کو توڑتا ہے تب بعدا س کے بلاتوقف رحمت الہی ظاہر ہوجاتی ہے بلکہ قبل اس کے جو صبح ہو آثار رحمت نمودار ہونے لگے ہیں۔ سو میں اسی غرض سے دعا میں مشغول ہوں آپ پر بھی لازم ہے کہ آپ دعاؤں پر دل سے ایمان لا کر ایسے خوش رہیں جیسا کہ ایک شراب پینے والا عین نشہ کی حالت میں خوش ہوتا ہے بلکہ اس سے بڑھ کر اور جو دہریہ کے رنگ کے لوگ ہیں ان کی باتوں کے سننے سے پرہیز کریں کیونکہ وہ لوگ خدا تعالیٰ کے غضب کے نیچے ہیں مومن پر ضرور ابتلاء آتا ہے اور کھبی ابتلاء لمبا بھی ہوجاتا ہے مگر آخر کار رحمت الہی کی صبح نکلتی ہے اور تمام غم کی تاریکی کو دور کردیتی ہے لیکن جب فاسق یا کافر پر ابتلاء آتا ہے تو وہ اس کی برداشت نہیں کر سکتا۔ کیونکہ اس کو خداتعالیٰ پر ایمان نہیں صرف اسباب پر بھروسہ ہوتا ہے جب اسباب نابود ہو گئے تب وہ بھی نابود ہونے کا تیار ہوجاتا ہے سو آپ کے لئے تخم ریزی ہی یہ ایسی نہیں کہ خالی ہو جاوے صرف صبر درکار ہے اور سو وطن زہر قاتل ہے اگر زمین مدراس کی آپ کو تکلیف دہ معلوم ہوئی آپ مع جمیع قبایل قادیان میں آجائیں۔ غرض اب آپ سے صبر اور استقامت کا …ہے۔ جب پھر آپ کے لئے دن پھریں گے۔ تو ان دنوں کو یار رکھیں گے