کیونکہ اس حکم یا اجازت پر ہی نابکار کی آئندہ قسمت کا فیصلہ ہے اور یہ حکم اب ایسے اجلاس سے صادر ہونا ہے۔ جس کے آگے کوئی اپیل ہی نہیں۔
حسن اتفاق سے آج روز جمعہ آگیا ہے۔ ا س واسطے یہ بھی ایک فال سعید خیال کر کے اس عریضہ نیاز کے ذریعے علی الصباح ہی شرف بار یابی حاصل کرنے کی جرات کرتا ہوں۔ چونکہ تقسیم برکات کا دن اور اعلیٰ انعم الٰہی کے عطا ہونے کی گھڑی ہے۔ اس واسطے امید ہے کہ اس سخاوت مجسم در سے خاکسار کی یہ مودبانہ گزارش خالی از قبولیت نہ جاوے گی۔
والسلام
جواب با صواب کا منتظر حضور کا کمترین خادم
ذاحقر العباد اللہ داد عفی عنہ احمدی کلرک شاہ پور حال قادیان
معروضہ ۴؍دسمبر ۱۹۰۶ء
حضرت اقدس کا جواب
از جانب حضرت مسیح موعود
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ میں نے آپ کا خط اوّل سے لے کر آخر تک تمام پڑھ لیا ہے۔ اگرچہ سرکاری نوکری جو پچاس روپیہ آپ کو ملتے ہیں ایک ظاہری بین شخص کی نظر میں اس کو چھوڑنا اور (…) روپیہ پر جو بھی ابھی ایک ظنی بات ہے قناعت کرنا دنیوی مصلحت کے بر خلاف ہے۔ لیکن آپ جیسا آدمی جو استقامت اور اخلاص اور توکل علی اللہ کا ہنر اپنے