معمولی بجا آوری فرائض الٰہی تک سخت تنگی کرتے ہیں۔ چنانچہ مکرمی اخویم مرزا خدا بخش صاحب و جناب حافظ محمد اسحاق صاحب سب اور سیر خود یہ تمام حال مشاہدہ کر آئے ہیں۔ علی ہذا القیاس ایسے سنیکڑوں دنیوی ابتلاء ہیں۔ جو دنیوی اشغال کی حالت میں انسان کو ان میں مبتلا ہونا پڑتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی محفوظ رکھے۔ یہاں وہ دارالامان میں تو اللہ تعالیٰ کا ہر طرح سے فضل ہے۔ کہاں دارالامان کی رحمت خیز سر زمین اور کہاں جیفۃالدنیا کا دیگر زاد یوم عالم۔ چہ نسبت خاک رابا عالم پاک۔ ۹۔ جملہ حالات کو یہ ہیت مجموعی زیر نظر لانے کے بعد خاکسار کے دل میں تو ایک ایسا جوش پیدا ہوا ہے کہ۔ مرنا قبول مگر دارالامان کی سر زمین سے قدم باہر رکھنا محال۔ بلکہ معرکہ قیامت سے کم نہیں۔ اگر چہ پہلے حضور کی ایک دفعہ اجازت ہو چکی ہوئی ہے کہ خاکسار اس جگہ آجاوے اور اسی سابقہ سلسلہ میں یہ اب یہ دوسرا موقعہ آیا ہے۔ مگر موجودہ موقعہ کے لئے حضور کی منظوری ضروری خیال کر کے نہایت مودبانہ خواستگار اجازت ہوں اور ساتھ ہی مستدعی دعا بھی کہ اللہ تعالیٰ اس رہائش میں برکت ڈالے اور جن اغراض کی بناء پر یہ سعی کارخیر کی گئی ہے۔ اللہ اس کے ثمرات حسنہ سے اس احقر کمترین خادم حضور کو بہرہ مند فرماویں۔ کیا ہی خوش قسمتی کہ وہ گھڑی ہو گی جس لمحہ میں اس ذہن مبارک سے حکم اجازت نقاز پا کراس خادم کی روح و رواں کی تروتازگی و شادابی کا باعث ہوگا اور اس نیم مردہ جسم و جان میں از سر نو روح حیات پھونکی جاوے گی۔