حضرت اقدس جن سے محبت رکھتے تھے دعا کی خاص تحریک ہو اور میں اذکرو اموتاکم بالخیر کے ارشاد کی تعمیل کاثواب حاصل کرسکوں۔ وباللّٰہ التوفیق۔
نواب صاحب موصوف حکمت اور تصوف میں اور علوم شرعیہ میں ید طولیٰ رکھتے تھے اور خصوصاً تصوف میںایسی معرفت رکھتے تھے کہ میںنے سینکڑوں درویش صوفی دیکھے مگر یہ معلومات اور دستگاہ نہیںدیکھی۔ نواب صاحب اہل اللہ کے بڑے معتقد تھے اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق جانباز تھے ہروقت درود شریف پڑھتے رہتے۔ باوجود اس قدروسیع معلومات اور تصوف میں ماہر ہونے کے حضرت اقدس علیہ السلام سے اعلیٰ درجہ کا عشق تھا اورپورا اعتقاد رکھتے تھے۔ نواب صاحب اکثر کہا کرتے تھے کہ جوبات میں نے مرزاغلام احمد صاحب قادیانی میں دیکھی۔ وہ کسی میں نہیں دیکھی۔ بعدآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اگرکوئی شخص ہے تویہی ہے۔ اس کی تحریر میں نور اور ہدایت، اس کے کلام میں اس کے چہرہ میں نورہے۔ ایک روز میں نے نواب صاحب سے اپنا کشف بیان کیا جو آگے آوے گا۔ تواس کو سن کر نہایت خوش ہوئے اور وہ کشف لوگوں سے بیان کیا اوروہ کشف حضرت اقدس کی تصدیق میں تھا۔
حضرت اقدس علیہ السلام بھی کبھی کبھی نواب صاحب سے ملنے جایا کرتے تھے اورنواب صاحب بھی آپ سے ملنے اکثر آیا کرتے تھے۔ نواب صاحب کے انتقال کے وقت حضرت اقدس علیہ السلام لودہانہ میں تشریف رکھتے تھے۔ بوقت انتقال نواب صاحب نے