ایسے تو ابتلاء کامیدان ہر جگہ وسیع ہے کسی خاص جگہ کی خصوصیت نہیں ہے۔ ہر جگہ اسی ذات جامع کمالات ہی کا تصرف ہے۔ اس کے تصرف سے کوئی خالی نہیں بلکہ مقابلتہً یہ دارالامان کی سرزمین او رجہگوں کی نسبت ابتلائوں کی سپر ہے۔ کیا بلحاظ روحانیت ہو کیا بلحاظ جسمانیت ہو۔ روحانیت کی پیاس بجھانے کے لئے تو آب زلال حیات ابدی کا حوض کوثر موجود ہے جس کے پینے سے ابدالآباد تک پیاس نہیں لگتی۔ جسمانیت کے لحاظ سے یہاں کے تیار کردہ شدہ دل تو کچھ ایسے ابتلائوں کی برداشت بھی کرسکتے ہیں اور یہاں کے تیار شدہ دل تو کچھ ایسے ابتلائوں کی برداشت بھی کر سکتے ہیں اور یہاں کے سکول معرفت کے تعلیم یافتہ روحیں ایسے ابتلائوں سے چنداں گھبراتی ہیں۔ ورنہ کسی دیگر جگہ کے حیفۃالدنیا کے طالب کو تو اگر ذرا سابھی ابتلاء آجائے تو اس کو اپنے وجود تک ہوش نہیں رہتی۔ دور کیوں جائیں۔ خود ہمارا اپنا واقعہ سال ۱۸۹۷ء کا حضور کو بخوبی یاد ہو گا کہ میرے چھوٹے بھائی پر ایک مقدمہ …… بن گیا۔ جس کے واسطے حضور کی خدمت میں بھی دعا کے لئے بہت عرض کیا تھا اور بطفیل دعائے آن حضر ت بفضلہ تعالیٰ انجام کار بریت و مخلصی تو ہو گئی تھی۔ مگر سال بھر کی مقدمہ بازی سے جس قدر تکلیف اٹھائی تھی اور جس قدر خرچ کی زیر باری ہوئی تھی وہ حاجت بیان نہیں۔ اڑھائی ہزار روپیہ سے بڑھ کر خرچ مقدمہ ہو گیا تھا۔ وہاں شاہ پور میں خاکسار کی موجودہ حالت بھی کچھ ابتلاء سے کم نہیں ہے جو …… افسر ہے۔ بوجہ غباو مذہبی کے سخت مخالف ہے۔ خود …… بھی اس کے ورغلانے سے ایسی کوشش میں ہیں کہ اگر موقعہ لگے نہ تو صرف موقوفی تک اکتفاء کرے بلکہ اس سے بڑھ کر نقصان پہنچا دے۔