عزیز او رابتدائی واقف ہیں۔ ان کا بھی خاکسار کے ساتھ اتفاق رائے ہوا۔ کیونکہ وہ ابتداء سے جانتے تھے کہ خاکسار کس مذاق و مشرب کا آدمی ہے اور یہ بھی ان کوبخوبی معلوم تھا کہ عاجز کی فطرت بھی اس امر کی مقتضی ہے او رمناسبت رکھتی ہے کہ دارالامان میں رہے۔
یہ افتادہ خاکسار حضور کی خاص دعائوں سے بھی استفادہ و استفاضہ کر ہی رہا تھا۔ انہی دعائوں کا نتیجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس نعمت کے حصول کے لئے ذرائع خود بخود پیدا کر دئیے اور ایک صورت گزارہ بھی نکل آئی یہ سب بطفیل دعائے آں قبلہ وارین کے اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے ورنہ یہ نابکار عاجز کس رعایت کا مستحق تھا کہ اس قدر ذمہ داری کے وعدہ بھی دئیے جا رہے ہیں۔
اس قادر مطلق سچے مربی و حقیقی محسن کے ہزار ہزار سجدات شکر بجا لاتا ہوں۔ جس نے اس خوشی کے دن دیکھنے کی امیدیں دلائی ہیں اور اسی ذات ستودہ صفات جامع کمالات پر بھروسہ ہے کہ وہ بے قیل المرام عاجز کو نہ چھوڑے گا۔
اب کل سے پختہ امید لگنے لگی ہے کہ رحمت الٰہی سے کچھ بعید نہیں ہے کہ عاجز جیسے ناکارہ کو جلدی ہی مستقل طور پر اس نعمت سے متمتع ہونے کا موقعہ نصیب کرے۔
۷۔ جس قدر حال عرض ہوا ہے وہ صرف خاکسار کی اپنے ذاتی مفاد تک محدود تھا۔ اب دیکھتا ہوں کہ اگر خاکسار کو اس جگہ دارالامان میں رہنا نصیب ہو جائے تو صرف یہی نہیں ہے کہ اس کا فائدہ خاکسار کے وجود تک ہی محدود رہے گا۔ بلکہ اس کافائدہ خاکسار کی بڑی برادری رشتہ داری