ہے۔ اگر خدا تعالیٰ کے فضل سے کوئی صورت فراخی نکل آوے تو وہ اس جواد کریم کا خاص رحم ہے اس کی نعمت کے لئے کو ن انکار کر سکتا ہے اور نہ ایسے تو میں معمولی قلیل سے قلیل چیز پر بھی اکتفا کر سکتا ہوں۔ خاکسار تو اس کو خاص ترجم و فضل الٰہی سمجھتا ہے کہ ایک تو گزارہ کے لئے صورت نکل آئی دوم امام الزماں علیہ الصلٰوۃ والسلام کے فیوض صحبت سے بہرہ اندوز ہونے کا ایک عمدہ موقعہ حاصل ہوا جو عین دل منشاء تھا اور جس کے لئے عرصہ سے درپے تھا۔ ۶۔ یہ مسئلہ کہ جس نیک کام کرنے کے لئے صافی نیت و سچے دل کے ساتھ انسان کوشش کرتا ہے خواہ بظاہر وہ کیسا ہی مشکل کام ہو۔ اللہ تعالیٰ ’’الاعمال بالنبیات ‘‘ کی بناء پر اس کو اس کام میں ضرور ہی کامیابی بخشا ہے۔ آج عاجز کو روز روشن کی طرح کھل گیا ہے۔ خاکسار کئی سال سے اس مدعا کے درپے تھا۔ مگر اب چار پانچ ماہ سے تو برابرا اس مدعا کے حصول کے لئے خلوص نیت سے دعائوں میں لگا رہا۔ کئی دفعہ استغفارہ کئے او ردعائوں میں توبہت ہی کثرت کی۔ ان دعائوں اور استخاروں کے بعد خوابیں بھی دیکھیں۔ جن سب کا ماحصل یہی تھا کہ اس جگہ دارالامان میں رہنا مفاد وارین کے لئے ضروری ہے اور اسی میں کامیابی ہو گی۔ بلکہ بعض اوقات دعا کی حالت میں غنودگی سی آئی او ر اس غنودگی میں اس فایز المرامی کا تمام نقشہ دکھلایا گیا۔ مگر باوجود یہ کہ دو ماہ سے اس قسم کی خوابیں آرہی تھیں۔ مگر پھر بھی خاکساردعائوں میں لگا رہا۔ ان تمام کیفیات کا تذکرہ مجملاً اپنے قدیمی عزیز بھائیوں برادرم مکرم مولوی شیر علی صاحب بی۔ اے۔ و برادرم مخدم مفتی محمد صادق صاحب سے کیا جو میرے ہم وطن و ابتدائے بچپن کے