وہاں میرے قدیمی مکرم و محسن جناب مخدومی مولوی محمد علی صاحب ایم۔ اے نے عاجز کے لئے (…) روپیہ ماہوار کی مستقل تجویز فرمائی ہے اور کل بالمواجہ پختہ وعدہ فرمایا ہے او رخود آپ ذمہ اٹھا لیا ہے کہ جب تک میگزین کو وجود ہے بشرطیکہ زندگی اقل درجے (…) روپیہ ماہوار تک میں تنخواہ دینے کاذمہ دار ہوں اوراگر اس میگزین کے کام ترقی ہوتی گئی تو ضرور بفضلہ تعالیٰ ہو گی۔ تو اس میگزین کی ترقی کے ساتھ تمہاری بہبودی و ترقی کا خیال بھی رہے گا اوّل تو وہی رازق حقیقی ہی کسی کا کفیل ہے اور اپنے دل و ایمان کے ساتھ اسی کی کفالت پر نظر ہے اور نابکار جیسے متوکلوں کا تو خاص اسی ہر ہی بھروسہ ہے مگر مولوی صاحب موصوف نے بھی جو وعدہ فرمایا ہے اور ذمہ داری اٹھائی ہے۔ اس پر بھی خاکسار کو پوری تسلی ہو چکی ہے اوّل تو جس قادر مطلق کے ارادے و منشا ہے اس میگزین کا پودا لگایا ہے وہ خود ہی اس کی ترقی۔ استحکام دیا بجائی کی صورت و ذرائع پیدا کرتا رہے گا اور بفضلہ تعالیٰ ترقی ہو گی اور یہ بڑی عمر پائے گا۔ بغرض محال اگر کوئی صورت و گرگوں بھی ہو تو میگزین کی عمر بالمقابل ہماری اپنی عمر کے کیا ہستی ہے۔ خاکسار خود اپنی عمر پر کیا اعتبار کر سکتا ہے یہی غنیمت ہے کہ یہ چند روزہ ایام زندگی صادق مامور کی پاک صحبت و معیت میں گزر جاویں اس سے بڑھ کر او رکیا نعمت غیر متناہی حاصل کر سکتی ہے۔
۵۔ یہ (…) ماہوار کی جو تجویز ہوئی ہے اس میں عاجز کا بخوبی گزارہ چل سکتا ہے۔ خاکسار بچپن سے بالکل سادگی سے زندگی بسر کرنے کا عادی