اس نعمت کے لینے میں ہر گز توقف نہ چاہئے۔‘‘
سو واقعی سچ ہے اور بالکل سچ ہے کہ جب ہر دو چیزیں حاصل ہو جائیں پھر اس سے بڑھ کر اور کیا چاہئے اول الذکر کے لئے تو مامور و مرسل الہی کی صحبت و خاک پاوے کا شرف کافی۔ امر دوم کے لئے وجہ معاش کا ذریعہ۔ جب دونوں مل جاویں پھر اور کسی چیز کی کیا ضرورت۔
۴۔وہ پہلا موقع تو جاتا رہا تھا کیوں کہ میرے توقف کرنے سے مکرمی مفتی صاحب کی تجویز ہو گئی۔ مگر اس کے بعد بھی دل میں یہی تڑپ لگی رہی کہ کسی طرح آں ہادی و مہدی زبان کے مبارک قدموں میں رہنے کا موقع ملے دل خاکسار تو پہلے ہی سے آتش محبت سے شعلہ زن ہوا تھا۔ مگر اب یہاں آکر او رکچھ عرصہ یہاں رہ کر سچے دل کے ساتھ محسوس کیا ہے کہ خصوصاً میرے جیسے مذاق کے انسان کے لئے دارالامان سے باہر رہنا تو زندگی کا عبث گزارنا ہے۔
خاکسار پہلے دو ماہ کی رخصت لے کر آیا تھا مگر دو ماہ کے گزرنے پر ہر گز دل نہ چاہا کہ وطن کا رخ کروں۔ کیونکہ وطن میں بے وطنی اور قادیان میں وطن نظر آتا ہے۔ مجبوراً تین ماہ کی اور رخصت لی۔ اس صورت میں اب چوتھا ماہ جارہا ہے۔ اب تو دن بدن دل کی یہ حالت ہے کہ یہاں سے نکلنا ایک موت نظر آتا ہے۔ رات دن اسی دعا میں تھا کہ کوئی ایسی صورت نکلے کہ معمولی گزارہ چل سکے تو حضور کے مبارک قدموں میں رہنے کی سبیل بن جائے۔ جو اصلی مدعا ہے۔ الحمدللہ کہ ایک ایسا امر پیدا ہو گیا ہے کہ جس سے خاکسار کے گزارہ کی بھی پوری صورت پیدا ہوگئی ہے اور انتظام بھی مستقل ہے۔ وہ یہ ہے کہ دفتر میگزین میں کلرک کی جگہ خالی تھی۔