کوئی صورت ایسی پید اہو کہ بقیہ ایام زندگی حضور کی بابرکت او رسراپا نور خیز قدموں میں گزاروں۔ جس سے دین ودینا کی اصلاح ہو کر حسنات دارین سے مستفیص و بہرہ مند ہوں۔ کیونکہ جب ایسا مبارک زمانہ پایا ہے اور ایسی نعمت غیر مترقبہ نصیب ہوئی ہے تو اس کی قدر نہ کرنا اور ایسی نعمت الٰہی سے وقت پر متمتع نہ ہونا مخص شومئی قسمت کاباعث ہے۔
۳۔ چونکہ دل میں بڑے ذوق کے ساتھ اس امر کی گدگدی وجاہت لگی ہوئی تھی۔ اس کے ہر پہلو پر غور کرنے کے بعد دل و دماغ نے بھی مشورہ و فتوی دیا کہ مرسل صادق کے مبارک قدموں میں زندگی گزارنا تمہارا مقصو د بالذات ہونا چاہئے اس لئے اس غرض کے حصول کے لئے کئی بار یہاں دارالامان کے مقیم احباب و بردران کو تصدیعہ دیتا رہا۔ چنانچہ ایک دفعہ نومبر ۱۹۰۰ء میں مکرمی اخویم جناب مولوی محمد علی صاحب ایم۔ اے نے ایک ایسی صورت پیدا کردی تھی کہ خاکسار اسی وقت مستقل طور پر یہاں آجاتا۔ مگر کچھ نا سازی قسمت و مخالفوں کی سعی سے اس وقت کامیابی کا منہ دیکھنا نصیب نہ ہوا کیوں کی اس وقت مخالفت آریہ افسروں نے عمداً وقت پر رخصت سے استفادہ نہ کرنے دیا۔ حالانکہ اس وقت حضور کی جانب سے بھی آنے کے لئے اجازت ہو چکی تھی۔
اس عاجز کے نہایت ہی مکرم و محسن و فخر قوم جناب مخدومی مکرمی مولوی عبدالکریم صاحب نے جن الفاظ سے خاکسار کو خطاب کیا تھا وہ الفاظ اب تک عاجز کے لوح قلب پر نقش برنگ کی طرح منقش ہیں جو یہ ہیں۔ ’’حج ودنج دونوں ہاتھ آویں پھر آنے میں کیا تال ہے۔