چودھر ی صاحب کا عریضہ بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم بحضور منبع علوم ربانی و مخزن انوار و قیوص رحمانی واقف رموز قصانی دکان گوہر معافی حضرت اقدس مرسل یزدانی جناب مسیح موعود مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ چونکہ حضور کے حکم سے اپنے درد دل کی داستان گزارش بندگان عالی کرنے کی اجازت ہوئی ہے۔ اس واسطے کسی قدر تفصیل کے ساتھ عرض کروں گا۔ ۲۔ اس امر کی وضاحت چنداں ضرورت نہیں سمجھتا کہ خاکسار کے دل میں عرصہ دراز سے شعلہ بھڑکا ہوا تھا۔ سال ۱۸۹۰ء یعنی ایام طالب علمی سے جب کہ خاکسار ابھی انرنیس میں تعلیم پاتا تھا۔ محض اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے حضور کے ساتھ تعلق اخلاص سندی نصیب ہوا جس کو اب چودہواں سال جا رہا ہے بفضلہ تعالیٰ اس تعلق میں روز افزاں ترقی ہوتی چلی آئی اور یہ رشتہ دن بدن مستحکم ہی ہوتا گیا اور بتدریج محسوس ہوتا گیا کہ اس پیوند کی مضبوط رسی کے ذریعے عالم تاریکی سے ایک بین روشنی کی طرف کھنیچا جا رہا ہوں اور الفت و محبت قلبی نے تو اس ایسی ترقی کی کہ چھ سات سال سے بڑے جوش کے ساتھ یہی خواہش رہی کہ