مصلحت اور حقیقی رحمت یہ کام کر رہی ہے۔ اپنی نمازوں میں اپنی ہی زبان میں ایسے مشکلات کے لئے دعا کرتے رہو۔ قیام میں رکوع میں سجود میں التحیات میں ہر ایک وضع میں دعا کرو۔ کوئی نیا امر نہیں ہے جس مومن سے خدا پیار کرتا ہے۔ اس کو کسی قدر ابتلاء کامزہ چکھاتا ہے تااس کی آنکھ کھلے او روہ سمجھے کہ دنیا کیا چیز ہے اور کس قدر تلخیوں کی جگہ ہے سو ضرور ہے کہ کسںقدر یہ دکھ پہنچے اوردرد حقیقت سے کوئی دکھ دکھ نہیں صرف ایمان کا قصور دکھ ہے صدق دل سے اپنے تئیں خدا کے حوالہ کرو اور یقین سے سمجھو کہ وہ ان لوگوں کو ضائع نہیں کرتا۔ جو اس کے ہو جاتے ہیں۔ سچی توبہ کرو اور گناہوں میں اپنی ہی زبان سے خدا سے معافی چاہو وہ رحم کرے یہ کوئی نئی بات نہیں اس دروازے کے راہ سے نہیں آتا۔ جس کو یہ سب کچھ دیکھنا نہیں پڑتا بلکہ ا س سے زیادہ خدا طاقت بخشے۔ چند روز دنیا ہے مخلوق طاعون سے مر رہی ہے ہمت میں اپنا صدق دکھائو۔ امتحان کے وقت اس بات میں خوبی نہیں کہ بہت جزع قزع کر کے مخلصی چاہیں بلکہ اس میں خوبی ہے کہ ایسے موقعہ پر استقلال دکھانا چاہئے۔
والسلام
خاکسار
مرزا غلام احمد۔ از قادیان
۲۰؍ جنوری ۱۹۰۲ء
دوسرا مکتوب نمبر ۲/۱۸۷
یہ خط عریضہ کے جواب میں ہے میں پہلے اسے درج کرتا ہوں تاکہ حضرت اقدس کے مکتوب کی پوری وضاحت ہو جائے۔ اس کے بعد وہ قادیان ہجرت کر گئے۔
(عرفانی کبیر)