حضرت اقدس کا مکتوب نمبر ۱/۱۸۶
یہ خط حضرت اقدس نے ان ایام میں چودھری صاحب کو لکھا جب کہ وہ شاہ پور میں تھے انہوں نے اپنے بعض ابتدائوں کا ذکر کر کے ایک عریضہ حضرت کے نام حضور لکھا تھا اس کا جواب حضرت نے حسب ذیل فرمایا
(عرفانی کبیر)
بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم
محبی اخویم منشی اللہ داد صاحب کلرک سلمہ اللہ تعالیٰ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ آپ کا عنایت نامہ پہنچا۔ یاد رہے کہ ہر ایک مومن کے لئے کسی حد تک تکلیف او رابتلا کا ہونا ضروری ہے اس کو صدق دل سے برداشت کرنا چاہئے اور خدا تعالیٰ کی رحمت کا انتظار کرنا چاہئے۔ جو شخص اس بات پر یقینی ایمان لاتا ہے میرا خدا جو قادر اور کریم او ررحیم او رعلیم ہے۔ اس کو اپنے ایمان کے موافق استقامت اور استقلال دکھانا چاہئے۔ وہ خدا تو قادر ہے کہ ایک دم میں مشکلات آمدہ کو حل کر دے مگر بندہ کی تربیت کے لئے جو دوسرے مصالح کسی بناء پر کسی حدتک اس کا ابتلاء چاہتے ہیں۔ ان مصالح کوترک کرنا حقیقی رحمت کے خلاف ہے۔ سو یقین رکھو کہ وہ خدا موجودہے جو ہر ایک مصیبت کو ایک دم میں دور کر سکتا ہے اور وہ اس سے بے خبر نہیں ہے۔ مگر اس کی