عظمت کے علاوہ اپنی علمی زندگی اور ہمدردی اسلام کے سچے جوش کی وجہ سے مشار الیہ تھے ۔ چونکہ حضرت قاضی خواجہ علی صاحب کی شکرمون کااڈا پاس ہی تھا اور وہ سلسلہ عالیہ احمدیہ کے بڑے بے دیا اور مخلص اور جان نثار اور دلیر انسان تھے اکثر نواب صاحب کے ہاںان کی نشست وبرخاست رہتی اور حضرت اقدس کے حالات اور تازہ واقعات کا تذکرہ رہتا۔ نواب صاحب کو حضرت اقدس کے ساتھ غایت درجہ کاعشق اور محبت تھی۔ا س لئے کہ انہوں نے خود اپنی ذات میںان نشانات دایات کامشاہدہ کیاتھا جو خد اکے مرسلوںکے سوا کسی اور کونہیںدیئے جاتے۔ حضرت اقدس ان نشانات کا اپنی تصانیف میںبھی ذکر فرمایاہے اور ان خطوط میںبھی جومیںذیل میںدرج کر رہا ہوں بعض نشانات کاثبوت ملے گا۔نواب علی محمد خان صاحب بیعت اولیٰ میں شریک تھے اور سابقین الاوّلین کی اس جماعت میںممتاز تھے۔چونکہ صوفی مشرب تھے اور حضرت صاحبزادہ سراج الحق صاحب جمالی نعمانی کے خاندان سے بھی انہیں ارادت وعقیدت تھی اس لئے صاحبزادہ صاحب جب بھی لودہانہ آتے ان کے ہاںقیام فرماتے ان کے خاندان کے بعض لوگ پیر صاحب کے سلسلے میںمرید بھی تھے۔اگرچہ اس تعارفی نوٹ کامقصد سوانح حیات کابیان نہیں تا ہم میںاس نوٹ کوبھی درج کردینا ضروری سمجھتا ہوں جو صاحبزادہ مرحوم نے مغفور نواب صاحب کے متعلق اپنے سفرنامہ میں لکھا ہے تاکہ احباب کو ایسے بزرگ کے لئے جوسلسلہ کی بنیادی اینٹوں میں سے ایک ہیں اور جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے اور