خلق اللہ کرو تو تمہارے اجر میں کچھ تصور نہیں تب بھی وہ اپنے فطری جوش سے رہ نہیں سکتے اور ان کو اس بات کی طرف خیال ہی نہیں ہوتاکہ ہم کو جان کنی سے کیا اجر ملے گا کیونکہ ان کے جوشوں کی بناء کسی غرض پر نہیں۔ بلکہ وہ سب کچھ قوت عشقیہ کی تحریک سے ہے اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالی فرماتا ہے ۔،،لعلک با خع نفسک الا یکو نو مو مینین سپارہ (۱۹ ) خدا اپنے نبی کو سمجھاتا ہے کہ اس قد غم اور درد کو تو لوگوں کے مومن بن جانے کے لئے اپنے دل پر اٹھاتا ہے۔ اس سے تیری جان جاتی رہے گی سو وہ عشق ہی تھا۔ جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جان جانے کی کچھ پرواہ نہ کی۔ پس حقیقی پیری مریدی کا یہی حال ہے اور صادق اسی سے شناخت کی جاتی ہے کیونکہ کے خدا کا قدیمی احوال ہے کہ قوت عشقیہ صادقوں کے دلوں پر ضرور ہوتی ہے تا وہ سچے غم خوار نتیجے کے لائق ٹھہریں۔ جیسے والدین اپنے بچے کے لئے ایک قوت عشقیہ رکھتے ہیں۔ توان کی دعا بھی اپنے بچوں کی نسبت قبولیت کی استعداد زیادہ رکھتی ہے اسی طرح جو شخص صاحب قوت عشقیہ ہے وہ خلق اللہ کے لئے حکم والدین رکھتا ہے اور خواہ مخواہ دوسروں کاغم اپنے گلے ڈال لیتا ہے کیونکہ قوت عشقیہ اس کو نہیں چھوڑتی اور یہ خدا وند کریم کی طرف سے ایک انتظامی بات ہے کہ اس نے نبی آدم کو مختلف فطرتوں پر پیدا کیا ہے۔ مثلاً دنیا میں بہادروں اور جنگجو لوگوں کی ضرورت ہے۔ سو پس بعض فطرتیں جنگ جوئی کی استعداد رکھتی ہیں۔ اسی طرح دنیا میں ایسے لوگوں کی بھی ضرورت ہے کہ جن کے ہاتھ پر خلق اللہ کی اصلاح ہوا کرے سو بعض فطرتیں یہ استعداد لے کر آتی ہیں اور قوت