مخدومی بخدمت مولوی عبدالقادر صاحب ! بعد سلام مسنون عرض یہ ہے کہ جو کچھ آپ نے سمجھا ہے نہایت بہتر ہے۔ دنیا میں دعا جیسی کوئی چیز نہیں۔ الدعا ء الخ العبادۃ۔ یہ عاجز اپنی زندگی کا مقصد اعلیٰ یہی سمجھتا ہے کہ اپنے لئے اور اپنے عزیزوں اور دوستوں کے لئے ایسی دعائیں کرنے کا وقت پاتا رہے کہ جو رب العرش تک پہنچ جاویں اور دل تو ہمیشہ تڑپتا ہے کہ ایسا وقت ہمیشہ میسر آجایا کرے اگر یہ بات اپنے اختیار میں نہیں۔ سو اگر خدا وند کریم چاہے گا تو یہ عاجز آپ کے لئے دعا کرتا رہے گا۔ یہ عاجز خوب جانتا ہے کہ سچا تعلق وہی ہے جس میں سرگرمی سے دعا ہے۔ مثلاً ایک شخص کسی بزرگ کا مرید ہے مگر اس بزرگ کے دل میں اس شخص کی مشکل کشائی کے لئے جوش نہیں اور ایک دوسرا شخص ہے جس کے دل میں بہت جوش ہے اور وہ ایسے کام کے لئے ہورہا ہے کہ حضرت احدیت سے اس کی دست گاری حاصل کرے سو خدا کے نزدک سچا رابطہ یہ شخص رکھتا ہے غرض پیری مریدی کی حیققت یہی دعا ہے اگر مرشد عاشق کی طرح ہو اور مرید مشعوق کی طرح ۔ تب کام نکلتا ہے یعنی مرشد کو اپنے مرید کی سلامتی کے لئے ایک ذاتی جوش ہوتا وہ کام کر دکھاوے۔ سرسری تعلقات سے کچھ ہو نہیں سکتا۔ کوئی نبی اورولی قوت عشقیہ سے خالی نہیں ہوتا۔ یعنی ان کی فطرت میں حضرت احدیت نے بندگان خدا کی بھلائی کے لئے ایک قسم کا عشق ڈالا ہوا ہوتا ہے پس وہی عشق کی آگ ان سے سب کچھ کراتی ہے اور اگر ان کو خدا کا یہ حکم بھی پہنچے۔ کہ اگر تم دعا اور غم خواری