عشقیہ سے بھری ہوئی ہوتی ہیں۔
فالحمد للہ علی۔ ظاہر بادباطہنا۔
خاکسار
مرزا غلام احمد
۲۱؍مئی ۸۳ء
بمطابق رجب ۱۳۰۰ء
مکرم سید امیر علیشاہ صاحب کے نام
(نوٹ) ان سید امیر علیشاہ صاحب کے متعلق کچھ معلوم نہیں ہوسکتا کہ یہ کون بزرگ تھے مگر حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کے مکتوب سے معلوم ہوتا ہے کہ مولوی محمد تفضل حسین صاحب رضی اللہ عنہ کے ذریعہ وہ حضرت اقدس کے دعا وی اور مقاصد سے آگاہ ہوئے تھے۔
انہیں اس امر پر غالباً اصرار تھا کہ حضرت اقدس اپنے دعاوی کا اظہار نہ کریں مگر حضور نے اس حقیقت کو واضح فرمایا کہ جو شخص مامور برائے اصلاح خلق ہوتا ہے وہ اگر اظہار نہ کرے تو مصیبت ہوتی ہے خط فارسی زبان میں ہے مگر حضرت اقدس نہایت سلیس زبان میں لکھتے اس لئے ترتیب کی ضرورت نہیں۔
(عرفانی کبیر)