ہونے کے اخلاص کے رنگ میں رنگین ہوئے۔ وہ ایک جید عالم تھے۔ حنفی المذہب تھے۔ آپ کے والد ماجد مولوی محمد موسی صاحب رضی اللہ عنہ بھی بڑے عالم تھے۔ لودہانہ میں ان کامدرسہ بڑی شان کا مدرسہ تھا۔ اسی مدرسہ سے مکرمی مولوی ابولبقا صاحب بقا پوری او ران کے برادر بزرگ مولوی حضرت محمد اسمٰعیل صاحب بقا پوری رضی اللہ عنہ انہیں کے شاگردوں میں سے ہیں حضرت مولوی عبدالقادر صاحب کو تبلیغ کا بہت شوق تھا اور جوش تھا اور وہ جہاں جاتے حضرت اقدس کے دعوے او دلائل کو پیش کرتے او رعلماء میں تبلیغ کرتے رہتے خاکسار عرفانی سے ۱۸۸۹ء سے تعلقات اخوت تھے اور مولوی مشتاق احمد صاحب کے پاس باقاعدہ آیا کرتے تھے اور مولوی صاحب موصوف میرے استاد تھے افسوس ہے کہ ان کو ہدایت نہ ہوئی۔ ان کاذکر مکتوبات کی چوتھی جلد کے دوسرے نمبر پر آئے گا۔ جہاں ان کے نام کا خط درج ہو گا غرض حضرت مولوی عبدالقادر رضی اللہ عنہ سلسلے کے اولین علماء میں سے ایک نہایت مخلص اور جیّد عالم تھے وہ خود لکھنے سے قاصر تھے اس لئے لودہانہ میں عموماً میر عباس علی صاحب کے خطوط میں جو کچھ عرض کرنا ہوتا کردیتے تھے اور ان کے خطوط ہی میں جواب مل جاتا تھا اور کثرت سے قادیان آتے رہتے تھے اس لئے کچھ زیادہ خط وکتابت نہ کرتے تھے اس لئے کچھ زیادہ خط و کتابت نہ کرتے تھے اللہ تعالیٰ اپنے بے کراں فضل کرے آمین
(خاکسار عرفانی)