دلا دیا تھا کہ مسلمانوں کا بقا صرف مسلمان ہوکر رہنے میں ہے۔ اگرچہ جیسا کہ ان کے واقف کاروں نے بتایا کہ وہ ہمیشہ سے ایک پرہیزگار اور متقی انسان تھے مگر اس انقلاب کے بعد ان کی زندگی میں بھی ایک غیر معمولی انقلاب پیدا ہوا اور ان کا اکثر وقت عبادت اورذکر الٰہی اورمطالعہ کتب دینیہ میں گزرتا تھا اورحمایت اسلام کی اعانت میںاکثر جلسے ان کے ہی مکان پر ہوا کرتے تھے۔ وہ ایک لمبیقد کے خوش رو انسان تھے اور ان کے چہرہ کودیکھ کر ہی ان کی متقیانہ زندگی کااثر ہوتا تھا۔ ڈاڑھی کو حناکرتے تھے لباس نہایت سادہ ہوتا تھا اور چلتے پھرتے ذکر الٰہی میںمصروف رہتے تھے چونکہ پرانی طرز کے صوفی تھے اس لئے ہر وقت تسبیح ہاتھ میںرہتی تھی۔ نہایت خوش اخلاق ملنسار، منکسرالمزاج اور خندہ پیشانی رکھتے تھے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ والسلام سے آپ کی اردت ۸۲۔۱۸۸۳ء میںشروع ہوئی اور یہ براہین احمدیہ کااثر تھا۔ نواب صاحب خود صاحب علم تھے اور علوم عربیہ دینیہ اور تصوف کے ماہر تھے۔ میر عباس علی صاحب (اللہ تعالیٰ ان کی خطائوںکومعاف کرے ) اس وقت بڑے سرگرم معاونین میں سے تھے اور ان معاونین کی جماعت میںنواب علی محمد خان بھی پیش تھے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اس وقت تک اس پایہ کاکوئی آدمی بھی حضرت اقدس کے ارادت مندوں میںشریک نہ ہوا تھا ۔
اس لئے کہ گو اس وقت ان کی وہ خاندانی حکومت کاجاہ جلال باقی تھا مگر ابھی اس دورِ حکومت کے اثرات باقی تھے اور وہ اپنی خاندانی