پر منبی ہے اور جو حضرت صاحب نے خط کے آخر میں مولود کے متعلق لکھا ہے اس کا مطلب ہے کہ ہماری ممانی صاحبہ اپنے والدین کے گھر میں غیر احمدیو ں کے رنگ میں مولود پڑھا کرتی تھیں اور غالباً ان کے والد صاحب کو اصرار ہو گا کہ وہ بدستور مولود پڑھا کریں گی جس پر حضرت صاحب نے لکھا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔ جب لڑکی بیاہی گئی اور خاوند کے ساتھ اس کی محبت ہو گئی تو پھر اس نے ان رسمی مولودوں کو چھوڑ کر بالآخر گویا خاوند کا ہی مولود پڑھا ہے سو ایسا ہی ہوا اوراب تو خدا کے فضل سے ہماری ممانی صاحبہ احمدی ہو چکی ہیں۔ ۴/۱۷۵ بسم اللہ الرحمن الرحیم ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ مبارک احمد کی وفات پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے مندرجہ ذیل خط تحریر فرمایا تھا۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم السلام علیکم ورحمۃا للہ وبرکاتہ عزیز مبارک احمد ۱۶؍ ستمبر ۱۹۰۷ء بقضاء الٰہی فوت ہو گیا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ ہم اپنے رب کریم کی قضا و قدر پر صبر کرتے ہیں۔ ہم سب ان کی امانتیں ہیں اور ہر ایک کام اس کا حکمت اور مصلحت ہر منبی ہے۔ والسلام مرزا غلام احمد