اورکوئی لڑکی پیدا ہوئی تو تم بھی ایسا ہی کرو گے۔ لڑکی والوں کی ایسی باتیں افسوس کے لائق نہیں ہوا کرتیں۔ ہاں جب تمہارا نکاح ہو جائے گا اور لڑکی والے تمہارے نیک اخلاق سے واقف ہو جائیں گے تو وہ تم پر قربان ہو جائیں گے۔ پہلی باتوں پر افسوس کرنا دانائی نہیں۔ غرض میرے نزدیک اور میری رائے میں یہی بہتر ہے کہ اس رشتہ کو مبارک سمجھو اور اس کو قبول کرلو اور اگر ایسا تم نے کیاتو میں بھی تمہارے لئے دعا کرو ںگا۔ا پنے کسی مخفی خیال پھر بھروسہ مت کرو۔ جوانی اور ناتجربہ کاری کے خیالات قابل اعتبارنہیں ہوتے۔ مو قعہ کو ہاتھ سے دنیا سخت گناہ ہے۔اگر لڑکی بد اخلاق ہو گی تو میں اس کے لئے دعا کروں گا کہ اس کے اخلاق تمہاری مرضی کے موافق ہو جائیں گے اور سب کجی دور ہو جائے گی۔ ہاں اگر لڑکی کو دیکھا نہیں ہے تو یہ ضروری ہے کہ اوّل اس کی شکل و شباہت سے اطلاع حاصل کی جائے۔ لڑکپن اور طفولیت کے زمانے کی اگر بد شکلی ہو تووہ قابل اعتبار نہیں ہوتی۔ اب شکل وصورت کا زمانہ ہے۔ میری نصیحت یہ ہے کہ شکل پر تسلی کر کے قبول کر لینا چاہئے۔ مولود بے شک پڑھے۔ آخر وہ تمہارا ہی مولود پڑھے گی حرج کیا ہے۔ والسلام مرزا غلام احمد (آخر کے صفحہ کے بعد) مکرر یہ کہ اس خط کے پڑھنے کے بعد صاف لفظوں میں مجھے اس کا جواب ایک ہفتہ کے اندر بھیج دیں۔ والدعا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ خط بیاہ شادی سے تعلق رکھنے والے امور کے متعلق ایک نہایت ہی قیمتی فلسفہ