خاکسار عرض کرتا ہے کہ کہنے کو تو اس قسم کے الفاظ ہر مومن کہہ دیتا ہے۔ مگر حضرت صاحب کے منہ اور قلم سے یہ الفاظ حقیقی ایمان او ردلی یقین کے ساتھ نکلتے تھے اور آپ واقعی انسانی زندگی کو ایک امانت خیال فرماتے تھے اور اس امانت کی واپسی پر دلی انشراح اور خوشی کے ساتھ تیار رہتے تھے۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب ہمارے حقیقی ماموں ہیں۔ اس لئے ان کے ساتھ حضرت مسیح موعود اپنے چھوٹے عزیزوں کی طرح خط و کتابت فرماتے تھے۔ ان کی پیدائش ۱۸۸۱ء کی ہے حضرت مسیح موعود نے ان کا ذکر انجام آتھم کے ۳۱۳ صحابہ کی فہرست میں ۷۰ نمبر پر کیا ہے۔ مگر چونکہ سید محمد اسمٰعیل دہلوی طالب علم کے طور پر نام لکھا ہے۔ اس لئے بعض لوگ سمجھتے نہیں۔ ست بچن میں بھی ان کانام انہی الفاظ میں درج ہے۔