یا کافی یعنی یک چشم ہے یا کوئی ایسی اور بد صورتی ہے جس سے وہ نفرت کے لائق ہے۔ لیکن بجز اس کے کوئی عذر نہیں صحیح نہیں ہے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ لڑکیوں کے اپنے والدین کے گھر میں اور اخلاق ہوتے ہیں اور جب شوہر کے گھر آتی ہیں تو پھر دوسری دنیا ان کی شروع ہو جاتی ہے۔ ماسوا اس کے شریعت اسلامی میں حکم ہے کہ عورتوں کی عزت کرو اور ان کی بد اخلاقی پر صبر کرو اور جب تک ایک عورت پاک ذہن اور خاوند کی اطاعت کرنے والی ہو۔ تب تک اس کے حالات میں بہت نکتہ چینی نہ کرو۔ کیونکہ عورتیں پیدا ئش میں مردوں کی نسبت کمزور ہیں۔ یہی طریق ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کی بد اخلاقی کی برداشت کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اپنی عورت کو تیر کی طرح سیدھی کر دے وہ غلطی پر ہے۔ عورتوں کی فطرت میں ایک کجی ہے۔ وہ کسی صورت سے دور نہیں ہو سکتی۔ رہی یہ بات کہ سید بشیر الدین نے بڑی بد اخلاقی دکھائی ہے اس کا یہ جواب ہے کہ جو لوگ لڑکی دیتے ہیں۔ ان کی بد اخلاقی قابل افسوس نہیں جب سے دنیا پید اہوئی ہے۔ ہمیشہ سے یہی دستور چلا آتا ہے کہ لڑکی والوں کی طرف سے اوائل میں کچھ بد اخلاقی اور کشیدگی ہوتی ہے اور وہ اس بات میں سچے ہوتے ہیں کہ وہ اپنی جگر گوشہ لڑکی کو جو نازو نعمت میں پرورش پاتی ہے۔ ایک ایسے آدمی کو دیتے ہیںجس کے اخلاق معلوم نہیں ہوتے اور وہ اس بات میں بھی سچے ہوتے ہیں کہ وہ لڑکی کو بہت سوچ اور سمجھ کے بعد دیں۔ کیونکہ وہ ان کی پیاری اولاد ہے اور اولاد کے بارہ میں ہر ایک کو ایسا کرنا پڑتا ہے اور جب تم نے شادی کی