۳/۱۷۴ بسم اللہ الرحمن الرحیم ۳۱؍ اگست ۱۹۰۵ء نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم عزیزی میر محمد اسمٰعیل صاحب سلمہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ۔ میں نے تمہارا خط پڑھا۔ چونکہ ہمدردی کے لحاظ سے یہ بات ضروری ہے کہ جو امر اپنے نزدیک بہتر معلوم ہو اس کو پیش کیا جائے۔ اس لئے میں آپ کو لکھتا ہوں کہ اس زمانے میں جو طرح طرح کی بد چلنیوں کی وجہ سے اکثر لوگوں کی نسل خراب ہو گئی ہے۔ لڑکیوں کے بارے میں مشکلات پیدا ہو گئی ہیں اور میں دیکھتا ہوںکہ بڑی بڑی تلاش کے بعد بھی اجنبی لوگوں کے ساتھ تعلق پیدا کرنے سے کئی بد نتیجے نکلتے ہیں۔بعض لڑکیاں ایسی ہوتی ہیں کہ ان کے باپ یاد ادوں کو کسی زمانے میں آتشک تھی اور کئی مدت کے بعد وہ مرض ان میں بھی پید ا ہو جاتی ہے۔ بعض لڑکیوں کے باپ دادوں کو جزام ہوتا ہے تو کسی زمانے میں وہی مادہ لڑکیوں میں بھی پید اہو جاتا ہے۔ بعض میں سل کا مادہ ہوتا ہے۔ بعض میں دق کا مادہ اور بعض کو بانجھ ہونے کی مرض ہوتی ہے اور بعض لڑکیاں اپنے خاندان کی بدچلنی کی وجہ سے پورا حصہ تقوی اپنے اندر نہیں رکھتیں۔ ایسا ہی اور بھی عیوب ہوتے ہیں کہ قرابت کے لوگ ہیں۔ ان کا سب حال معلوم ہوتا ہے۔ ا س لئے میری دانست میں آپ کی طرف سے نفرت کی وجہ سے بجز اس کے کوئی نہیں ہو سکتی کہ یہ بات ثابت ہو جائے کہ بشیر الدین کی لڑکی دراصل بدشکل ہے۔