تعارفی نوٹ
حضرت نواب علی محمدؐ خان صاحب آف جہجر (جوفتنہ عذرکے بعد لودہانہ آکر مقیم ہوچکے تھے) جہجر کے حکمران خاندان میں سے تھے ۱۸۵۷ء کے عذرکے بعد جہجر کے خاندان پر بھی الزام آیا اوراس کا نتیجہ اس خاندان کا عزل تھا۔ نواب علی محمدؐ خان صاحب لودہانہ آکر آباد ہوئے اورانہوں نے اپنی رہائش کیلئے ایک عالیشان کوٹھی معہ باغ تعمیر کی اوراس کے ساتھ ہی ایک مسجد عبادت کے لئے اور ایک سرائے تعمیر کی تاکہ وہ آ مدنی کا ذریعہ ہو۔ رقم الحروف خاکسار عرفانی کو بفضل تعالیٰ نواب محروم سے سعادت ملاقات وہم نشینی اس وقت سے حاصل ہوئی جب کہ وہ ۱۸۸۹ء میں لودہانہ کے بورڈ سکول کا ایک طالب علم تھا اور روزانہ ظہر کی نماز ان کی مسجد میں پڑھتا تھا اورنواب صاحب باقاعدہ شریک جماعت ہوتے تھے۔ سرائے میں ایک مدرسہ عربیہ بھی قائم تھا جس کی صدر مُدرسی حضرت مولوی عبدالقادر صاحب رضی اللہ عنہ کے سپردتھی اسی عہد کے بعض یاراں قدیم الحمداللہ سلسلہ عالیہ احمدیہ میں شریک ہوگئے جیسے مولوی ابوالبقا محمد ابراہیم صاحب بقاپوری اورا ن کے برادرمحترم حضرت مولوی محمد اسماعیل صاحب رضی اللہ عنہ۔ حضرت نواب علی محمد خان صاحب ایک نہایت دیندار۔ خداترس مخیر اورشب زندہ داربزرگ تھے۔ عذر کے حوادث اور انقلابات ان کی طبیعت میں دنیا کی بے ثباتی اور دُینوی شان وشوکت اورمال ومتال کی حقیقت کو نمایاں کردیا تھا۔ عذر مصائب اورانقلابات نے انہیں یقین