۱/۱۷۲ بسم اللہ الرحمن الرحیم ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ والسلام اپنے مکان کے مختلف حصوں میں رہائش تبدیل فرماتے رہتے تھے۔ سال ڈیڑھ سال ایک حصہ میں رہتے۔ پھر دوسرا کمرہ یا دالان بدل لیتے۔ یہاں تک کہ بیت الفکر کے اوپر جو کمرہ مسجد مبارک کی چھت پر کھلتا ہے اس میں بھی آپ رہے ہیں اور ان دنوں گرمی میں آپ کی اہلیت کی چارپائیاں اوپر کی مسجد میں جو صحن کی صورت میں ہے بھچی تھیں۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ مجھے جس زمانے کا ہوش ہے میں نے آپ کو زیادہ تر اس کمرہ میں رہتے دیکھا ہے جس میں اب حضرت اماں جان رہتی ہیں جوبیت الفکر کے ساتھ شمالی جانب واقع ہے۔ ۲/۱۷۳ بسم اللہ الرحمن الرحیم داکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ جب میری شادی کی تیاری ہوئی تو میں دھلی کے شفا خانہ میں ملازم تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ والسلام سے اس کے متعلق خط وکتابت ہوتی تھی۔ میں پہلے اس جگہ راضی نہ تھا۔ آپ نے مجھے ایک خط میں لکھا کہ اگر تمہیں یہ خیال ہو کہ لڑکی کے اخلاق اچھے نہیں ہیں تو پھر بھی تم اس جگہ کو منظور کر لو۔ اگر اس کے اخلاق پسندیدہ نہ ہوئے تو میں انشاء اللہ اس کے لئے دعا کروں کہ جس سے اس کے اخلاق درست ہو جائیں گے۔ حضور کے لئے خط کی یہ نقل ہے۔