تعارفی نوٹ
حضرت سید ناصر شاہ صاحب رضی اللہ عنہ اصل میں کشمیر کے باشندے تھے مگر ان کے بزرگ لاہور میں آکر آباد ہو گئے تھے اس خاندان میں احمدیت شاہ صاحب کے ماموں مولوی کرم الہٰی صاحب رضی اللہ عنہ کے ذریعہ آئی او رشاہ صاحب کے برور بزرگ حضرت سید فضل شاہ صاحب رضی اللہ عنہ پہلے داخل سلسلہ ہوئے۔ شاہ صاحب موصوف کو حضرت اقدس کے ساتھ محبت و اخلاص کا وہی تعلق ہے جو حضرت منشی عبداللہ صاحب سنوری کو تھا۔ سید فضل شاہ رضی اللہ عنہ کوحضرت اقدس کی خدمت کابڑا موقعہ ملا اورا نہوں نے حضرت پر وحی آتے ہوئے بھی دیکھی۔ سید ناصر شاہ صاحب ایک نہایت مخلص کم سخن او رگداز طبیعت کے بزرگ تھے۔ خاکسار عرفانی کے ساتھ ان تمام بزرگوں کا قلبی محبت تھی اور وہ اس سے اپنے اسرار او رراز کی باتیں بھی کر لیا کرتے تھے۔ حضرت سید ناصر شاہ صاحب ریاست جموں کشمیر میں ملازم تھے اور حضرت اقدس کی خدمت میں ہمیشہ اپنے مالی نذرانے پیش کرتے رہتے آپ بہت ہی کم اپنی ذات پر خرچ کرتے۔ ان کامفصل تذکرہ کتاب تعارف میں آتا ہے ان کی سب سے بڑی خدمت یہ تھی کہ نزول المسیح کی طبع کے تمام اخراجات انہوں نے اد اکئے۔ جزاکم اللہ احسن الجزا فی الدنیا والحقبی۔ اب دونوں بھائی مقبرہ بہشتی میں آرام فرماتے ہیں ذیل کے مکتوبات ان کے ہی نام کے ہیں۔
(عرفانی کبیر)