۸۳/۱۵۴ (پوسٹ لفافہ) بسم اللہ الر حمن الر حیم ۔ نحمدہ و نصلی
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔
مجھے لاہور میں آپ کاخط ملا۔ الحمدللہ آپ کے فرزند لخت جگر کو مرض سے صحت ہے۔ الحمدللہ۔ میرے گھر کے لوگ بیمار تھے۔ تبدیل آب وہوا کے لئے لایا ہوں۔ شاید ایک ماہ تک ہم یہاں رہیں۔ باقی سب خیریت ہے۔
خاکسار
مرزا غلام احمد
۵؍ مئی ۱۹۰۸ء
۸۴/۱۵۵ (ددستی پرچہ)
شفقی میاں عبداللہ صاحب
السلام علیکم۔ انشاء اللہ کل آپ کو سمجھا دوں گا اور کل کسی وقت آپ بیعت کر لیں۔
اس پرچہ پر کوئی تاریخ درج نہیں۔ ہاں تخمیناً ۹۳ء کا لکھا ہوا ہے۔ کیونکہ یہ بیعت جس کا اس میں ذکر ہے۔ ۸۹ء والی بیعت سے تین چار سال بعد میں ہوئی تھی۔
(نوٹ) اس خط کی تاریخ ٹھیک طور پر معلوم نہیں ہو سکی اور نہ کہ ترتیب میں اسے کس خط کے بعد اور کس سے قبل رکھنا چاہئے۔ اس لئے اسے اس جگہ پر درج نقل کیا گیا۔