اور میرے گھر کے لوگ مجھ سے زیادہ بیمار تھے۔ اس لئے تبدیل ہوا کے لئے لاہور میں آگئے ہیں۔ خدا تعالیٰ آپ کو غم سے رہائی بخشے۔ والسلام ۔ خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ ۸۲/۱۵۳۔ (پوسٹ لفافہ) بسم اللہ الر حمن الر حیم ۔ نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہٰ الکریم محبی عزیزی میاں عبداللہ صاحب سلمہ السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔ آپ کا محبت نامہ پہنچا۔ رحمتہ اللہ کی صحت سے بہت خوشی ہوئی ۔ الحمداللہ۔ مگر مناسب ہے کہ جب تک پوری قوت نہ ہو۔ دوا کھاتے رہیں۔ ابھی قرص کافور کو نہیں چھوڑنا اور بہتر ہے اکثر اوقات باہر ہوا میں رہیں۔ اگر ایسی جگہ میسر آوے کہ باغ ہو اور درختوں کا سایہ ہو اور کھلی ہوا ہو تو یہ بہت ہی بہتر ہے اورایک بڑی دوا ہے اورتاریک جگہ اوربند ہوا کی جگہ میں ہرگز نہیں رہنا چاہئے۔ باغ کے سایہ کی ہوا حکم اکسیر رکھتی ہے۔ مگر شام کے وقت باغ میں نہ رہیں اور گائے کا دودھ بہت پئیں۔ جس قدر ہوسکے تھوڑا جوش دے لیا کریں۔ خدا تعالیٰ کامل صحت عطا فرمائے۔ باقی سب خیریت ہے مجھ کو اطلاع دیتے رہیں۔ والسلام خاکسار مرزا غلام احمد (میں نے تمام خط پڑھ لیا ہے۔)