دور نہیں ہو سکتی۔ سو میں آپ پر بہت خوش ہوں۔ ظاہری ملاقات میں اگر کچھ بعد واقع ہو گئی ہے تو یہ صوری بعد کے باطنی قرب کا کچھ حارج نہیں۔ انشاء اللہ ملاقات بھی کسی وقت ہو جاوے گی اور آج جس قدر بعض لوگوں میں بد خیالات و ظنون فاسد ہ پیدا ہو گئے ہیں۔ میں ان سے کچھ آززردہ نہیں اور نہ ایسے لوگ میری کاروائیوں کو کچھ نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ دنیا میں ہمیشہ سے اکثر لوگ سریع التغیر اورکچے خیال کے ہوتے رہے ہیں۔ ایسا ہی اس زمانہ میں سبھی ہیں۔ مگر ایسے لوگ نہ اپنے شمول سے کچھ برکت زیادہ کرتے ہیں اورنہ اپنے مخالفانہ فعل و قال سے کچھ بگاڑ سکتے ہیں۔ انسان کے لئے اس کا حقیقی محاسب خدا تعالیٰ ہے اگر وہ کسی بنا پر ناراض ہو تو تمام دنیا مل کر اس بندہ کو اپنی مرادات میں کامیاب نہیں کر سکتی اور اگر راضی ہو تو اُس کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ جو شخص حقیقت میں سچا اورزیر سایہ حمایت الہی ہو۔ اس کو کسی کی دوستی اوردشمنی کی پرواہ بھی نہیں ہوتی۔ ہرایک شخص اپنا جوہر ظاہر کرتا ہے۔ نیک آدمی اپنی نیک باتوں اوروفاداری اور صدق اور صفا سے اپنی نکو کاری کا ثبوت دیتا ہے اوربد آدمی اپنی بد افعالی بد گمانی سے اپنے مادہ بد کو ظاہر کرتا ہے۔ اللہ جل شانہ نے فرمایا ہے۔ وکل یعل علیٰ شا کلتہ یعنی ہر شخص اپنے مادہ اور فطرت کے مطابق عمل کر رہا ہے اور اس جگہ اور سب طرح سے خیریت ہے ۔
والسلام
خاکسار
غلام احمد از قادیان ۶؍مارچ ۱۹۰۸ء
سب کی طرف سے السلام علیکم