۷۷/۱۴۸۔(پوسٹ لفافہ) بسم اللہ الر حمن الر حیم محبی اخویم میاں عبداللہ صاحب سلمہ السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔ آپ کی رخصت منظور ہونے سے بہت خوشی ہوئی اوردُعا ہے کہ عزیز رحمتہ اللہ کو بھی خدا تعالیٰ اس عہدہ پر مستقل فرماوے۔ آمین اوریہ آپ کے اختیار میں ہے۔ جس بات میں آرام دیکھیں وہی طریق اختیار کریں۔ چاہیں تو عیال کو بھی ہمراہ لے آویں۔ چاہے مجرو آجائیں۔ چند روز سے ہمارے گھر میں بعض مہمان معہ عیال اُترے ہوئے ہیں اور ان کا اردہ معلوم ہوتا ہے کہ عید تک اسی جگہ رہیں۔ لہذا عید تک کل مکان رکا ہوا ہے لیکن اگر آپ معہ عیال آویں۔ تو انشاء اللہ کوئی بندو بست ہوجاوے گا۔ مسمی علیا کی بیعت منظور کی گئی ہے۔ خدتعالیٰ اس کو استقامت بخشے۔ والسلام مرزا غلام احمد عفی عنہ، ۲۶؍اکتوبر ۱۹۰۷ء ۷۸/۱۴۰۔(پوسٹ لفافہ) بسم اللہ الر حمن الر حیم از عابد باللہ الصمد غلام احمد۔ بخدمت اخویم میاں عبداللہ صاحب سنوری۔ بعد سلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔ مدت مدید کے بعد آپ کا عنائت نامہ پہنچا۔ تمام خط اول سے آخر تک غور سے پڑھا گیا۔ میں بخوبی اس بات پر مطمئن ہوںکہ خدا تعالیٰ نے آپ کے دل میں اخلاص اور محبت کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے اور آپ کو فطرتی مناسبت ہے اور ایسی محبت ہے کہ زمانے کے رنگ بدلانے سے