۷۵/۱۲۶۔ (پوسٹ لفافہ) بسم اللہ الرحمن الر حیم۔ نحمدہ و نصلی
عزیزی مشفقی محبی میاں عبداللہ صاحب سلمہ۔
السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ۔ کئی دن سے آپ کا خط پہنچا ہوا ہے۔ مگر مجھے دو ماہ سے قدر کھانسی ہے کہ جواب لکھنے سے مجبور رہا۔ اس وقت بھی میری حالت تحریر کے قابل نہیں تھی۔ اپنے تئیں ضبط کرکے لکھا ہے افسوس کہ میں علالت طبع سے زیادہ لکھ نہیں سکتا۔ بعد صحت انشاء اللہ آپ کے لئے دُعا کروں گا۔ صرف رسید کے طور پر یہ خط بھیجتا ہوں۔
والسلام
خاکسار
مرزا غلام احمد عفی عنہ ۴؍جون ۱۹۰۴ء
۷۶/۱۲۷۔ (پوسٹ لفافہ) بسم اللہ الر حمن الر حیم
محبی عزیزی اخویم میاں عبداللہ صاحب سلمہ
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔ آپ کا عنائت نامہ پہنچ کر بہ دریافت خیرو عافیت نہایت خوشی ہوئی۔ امید کہ جلد جلد اپنے حالات خیریت آیات سے مطلع کرتے رہیں گے اور جو کچھ آپ نے ارادہ کیا ہے کہ یک صد روپیہ سالانہ معہ چندہ احباب غوث گڈھ روانہ کرتے رہیں۔ خدا تعالیٰ اس کا آ پ کو ثواب بخشے۔ باقی ہر طرح سے یہاں خیریت ہے۔ ایک اشتہار ساتھ اس کے ارسال ہے۔
والسلام
خاکسار
مرزا غلام احمد عفی عنہ ۲۸؍فروری ۱۹۰۵ء
اخویم مولوی محمد علی صاحب کو اطلاع دے دی گئی ہے۔کبھی آپ کو ملاقات کے لئے آنا چاہئے۔