میاں عبد العزیز اور ابراہیم کے لئے انشاء اللہ دُعا کروں گااور ٹیکہ اگرچہ بیہودہ سا علاج ہے اورکہتے ہیں کہ خطرہ سے خالی نہیں اور بعض اس سے مجذوم اوردیوانہ بھی ہو گئے ہیں۔ بعض طاعون کو خود بلا کر جان کو عزیز رکھواتے ہیں۔ مگر آپ ملازم ہیں۔ آپ کو شاید توکلاً علی اللہ لگانا ہی پڑے گا۔ میں نے ٹیکہ کے با ب میں ایک رسالہ لکھا ہے ۔ جس کانام ہے کشتی نوح وہ چھپ رہا ہے۔ اگر آپ دوہفتے کے بعد اطلاع دیں۔ تو آپ کو پہنچ سکتا ہے۔ والسلام ۔ خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ ۱۸؍ستمبر ۱۹۰۲ء ۷۴/۱۴۵۔ (پوسٹ لفافہ) ۲۷؍اپریل ۱۹۰۳ء۔ بسم اللہ الر حمن الر حیم۔ نحمدہ نصلی علیٰ رسولہٰ الکریم محبی اخویم میاں عبداللہ صاحب سلمہ، ۔ السلام علیکم ور حمتہ اللہ وبرکاتہ۔ آپ کا رڈ پہنچا۔ چونکہ عمر کا اعتبار نہیں۔ آپ کو مناسب ہے کہ دوتین ماہ کی رخصت لے کر قادیان میں آجائیں۔ آپ کے عمر کے اوائل حصہ میں اگرچہ قادیان رہنے کا اتفاق ہوا۔ مگر اب نہیں ہوا۔ اب ہونا ضروری ہے اس بات میں ضرور غور کرنا چاہئے۔ والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ از قادیان (اخویم سید محمد شاہ صاحب کو سلام علیکم)