میرے طرف سے تیار کروا کر حضور تناول فرماویں۔ اس بات کی طرف حضور نے اپنے اس فقرہ میں اشارہ فرمایا ہے کہ آپ کی مرضی کے موافق تعمیل کردی ہے۔،،
۷۲/۱۴۳۔(پوسٹ کارڈ) بسم اللہ الر حمن الر حیم۔ نحمدہ ونصلی
محبی اخویم میاں عبداللہ صاحب سلمہ۔
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔ آپ کا چند ہ مرسلہ مبلغ (…) پہنچ گیا ہے۔ میں نے ابھی آپ کے لئے دُعا کی ہے۔ سخت امتحان کے دن ہیں۔ آپ بھی توجہ سے توبہ استغفار کرتے رہیں۔ بہت دُعا کرتے رہیں۔ ہماری جماعت کے لئے ایک خاص رعایت ہوئی۔ مگر معلوم رہے کہ کسی حدتک بعض کا بطور شہادت فوت ہونا ممکن مگر تشوش کا مل تباہی خانگی سے محفوظ رہے گی۔ کم ابتلا ہو گا۔ توبہ کے لئے ہرایک پر زور دیں۔ اب وقت ہے۔ آئندہ جاڑا خطرناک ہے۔
والسلام
خاکسار
غلام احمد
تاریخ مہر روانگی از ڈاک خانہ قادیان۔
۳۰؍اپریل ۱۹۰۲ء
۷۳/۱۴۴۔ (پوسٹ لفافہ) بسم اللہ الرحمن الر حیم۔ نحمدہ و نصلی
محبی عزیزی میاں عبداللہ صاحب سلمہ،
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔ عنائت نامہ آپ کا پہنچا۔ افسوس کہ آپ کے پہلے خط کا مضمون مجھے یاد نہیں رہا اورتعجب کہ آپ کو جواب نہ پہنچا۔ نہ معلوم کیا سبب ہوا۔ یا شاید خط گم ہو گیا ہو۔