نتھ طلائی بتیس روپیہ کی بجاوے اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے اور اپنی خاص حکمت سے جس کو وہی جانتا تھا۔ عزیز کی اہلیہ کو دس طلائی زیور جن کی قیمت اس نتھ سے وہ چندسے بھی یک صد روپیہ اوپر ہے۔ پہناوے۔ جس کے متعلق پہلے وہم و گمان بھی نہ تھا۔ زیوروں کی شمار کرنے کے وقت حضور کی یہ بات یاد آئی۔ جسے اس وقت مولوی صاحب موصوف نے اپنے گھر کے لوگوں کے پاس بیان کیا۔ جس سے سب کے ایمان بفضلہ تعالیٰ اوربھی بڑھے والحمدللہ علیٰ ذلک۔
(نوٹ)۔ مولوی عبداللہ صاحب فرماتے ہیں کہ عبدالقدیر میزلز کا(جو برکت اللہ کے بعد پید اہوا) اس کاعقیقہ میں نے خود قادیان آ کر حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام سے کرایا۔ عقیقہ کے دن حضور کو سر درد تھا۔ شام کے وقت جب حضور کے پاس اندر گیاتو حضور نے فرمایا کہ ہم نے جو کہا نا عقیقہ کے کھانے میں اپنے لئے منگوایا تھا۔ وہ اسی طرح پڑا ہے (جس جگہ پر پڑا تھا اس کی طرف اشارہ فرمایا) چونکہ ہمارے سر درد کادورہ ہے۔ اس واسطے اس میں سے ہم نے ایک چاول تک نہیں کھایا۔ اس کے بعد جب میں نے غوث گڈھ سے حضور کی خدمت میں وہ زیور بھیجا۔ جس کا اس خط میں ذکر ہے تو میں نے ساتھ ہی یہ درخواست بھی بذریعہ عریضہ حضور کی خدمت میں کی کہ کل چونکہ عقیقہ کے روز حضور نے کھانا نہیں کھایا تھا۔ اس لئے گزارش ہے کہ مہربانی فرما کراس زیور کی قیمت میں فلاں قدر رقم (غالباً دو روپیہ لکھے تھے یا اس سے کم و بیش) کا عمدہ کھانا