آپ کے گھر کے لوگوں کی محبت اوراخلاص قابل تعریف ہے۔ کہ زیور جو عورتوں کو بالطبع عزیز ہوتا ہے۔ اس کے دینے سے دریغ نہیں کیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ آپ کو اس سلسلہ کی خدمت کے لئے دل میں جوش آرہا ہے اور باباعث کثرت مصارف اور قلت آمدن روپیہ میسر نہ ہو سکا۔ اسی صورت میں دل کے بیتابی نے یہی ہدائت دی کہ آپ اپنی عزیز زوجہ کا زیور اُتار کر بھیج دیں۔ سو خدا تعالیٰ نے آپ کو اس اخلاص کی بہت بہت جزائے خیردی اور آپ کی زوجہ علاوہ ثواب آخرت کی دنیا میں بہت سے زیور طلائی عنایت کرے کہ وہ دنیا ستر۷۰ آخرت توا یک وعدہ ہے۔ آمین ثم آمین ہم نے آپ کی مرضی کے موافق تعمیل کر دی ہے اورمدت دارز گزرگئی ہے بہتر ہے کہ آپ نہیں آوے۔ بہتر ہے کہ موسم سرما کوئی ایسی تجویز نکالیں کہ ایک ماہ تک قادیان میں ٹھہر سکیں۔ دیکھیں آئندہ طاعون کی کیا صورت ہے۔ کب تک اس کے ٹھہرنے کی لئے حاکم حقیقی کا حکم ہے۔ باقی خیریت ہے۔
والسلام
خاکسار
مرزا غلام احمد ازقادیان
(نوٹ) ؎۱۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی باتوں کو پورا کرنے والے اللہ تعالی نے حضور کی اس بات کو بھی کہ ،، دنیا اور ستر آخرت تو ایک وعدہ ہے،، اب بیس سال کے بعد لفظ بلفظ پورا کیا اور وہ اس طرح سے کہ اگست ۱۹۲۱ء میں مولوی عبداللہ صاحب کے فرزند اصغر اور مولوی صاحب موصوف کی اس چھوٹی بیوی کے اکلوتے بیٹے عزیز عبدالقدیر کی اہلیہ کے رخصتانہ کے موقع پر اس ایک