چڑھتا ہے۔ دوسرے دن کانوں کے نیچے یا بغل کے نیچے یا بن ران میں گلٹی نکل آتی ہے۔ گلٹی تیسرے چوتھے روز خودبخود تحلیل ہو کر کم ہو جاتی ہے ‘‘مگر اس خط بنام مولوی عبداللہ صاحب میں یہ کوئی ذکر نہیں کہ اس علاقے میں بھی طاعون نمودار ہو ر ہی ہے۔ جس سے بطور تخمینہ یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ خط مارچ یا اپریل ۹۸ء کا لکھا ہوا ہے۔ اس لئے اس کو اس محل میں درج کیا گیا اور اس خط کے آخر میں حضورنے اپنا اسم مبُا ر ک بھی تحریر نہیں فرمایا ہے۔ مگر یہ خط حضور کے اپنے قلم اور دست مبارک کا لکھا ہوا۔ یہ خط حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام نے جناب مولوی عبداللہ صاحب کو مولوی صاحب کے ایک ایسے خط میں تحریر فرمایا تھا جو انہوں نے ماسٹر قادر بخش صاحب ا حمدی ساکن لودہانہ کی طرف سے حضورکی خدمت میں لکھا تھا۔ ۶۷/۱۳۸۔ (پوسٹ لفافہ) بسم اللہ الر حمن الر حیم۔ نحمدہ نصلی محبی عزیزی اخویم میاں عبداللہ صاحب سلمہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ؎۱٭٭٭٭٭مبارک ہو اللہ تعالیٰ عمر٭٭٭٭٭رکھا ہے کل بہت تکلیف سے ٭٭٭٭٭گیا ہے۔ دو دنبے