امر ہے نہ ظنی۔ طبی تجرے اس کی گواہی دیتے ہیں۔ پھر اگر شہر کو چھوڑنا ہو تو اس نیت سے چھوڑنا چاہئے کہ اب تمام عمر ہم اس سے الگ رہیں گے اور اپنے مکانات اور دوسرے تعلقات کا پورا انتظام کرنا چاہئے۔ کیونکہ یہ سفر گویا ہمیشہ کے لئے الوداع ہے۔ پھر دوبارہ شہر میں داخل ہونا ممانعت ہو گی۔اگر خدا چاہے تو چند وار داتوں کے بعد اس بیماری کو لدھیانہ سے دور کر دے۔ لیکن اگر یہ بیماری لدھیانہ میں پھیل گئی تو پھر غالباً ایک عمر لے گی۔ دیکھو کتنے برس سے بمبئی میں پھیل رہی ہے۔ یہ تمام امور سوچ لینے چاہئیں۔ یہ سرسری کا م نہیں ہے اگر لدھیانہ کے قریب کوئی گائو ں ہے جو طاعون سے پاک ہو۔ تو بہتر ہو گا کہ اس میں کہر لیا جائے۔ اس میں فائدہ یہ ہے کہ برابر ہر روز خبر رکھ سکتے ہیں۔ زیادہ خیریت ہے۔ والسلام (نوٹ) اس خط پر حضور نے تاریخ نہیں دی ہے۔ ہاں اس بات سے اس سال کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ جس میں یہ حضور نے لکھا ہے کہ یہ طاعون کے حملے پہلے سال کا واقعہ ہے۔ حضور اپنے مکتوب مورخہ ۲۷؍ اپریل ۹۸ء بنام سیٹھ حاجی عبدالرحمن اللہ رکھا صاحب مدراس رضی اللہ عنہ میں تحریر فرماتے ہیں کہ ’’اس طرف طاعون کا بہت زور ہے۔ سنا ہے ایک دو مشتبہ وار داتیں امرتسر میں بھی ہوئی ہیں‘‘ اور مکتوب مورخہ ۱۵؍مئی ۹۸ء بنام سیٹھ صاحب موصوف نیز فرماتے ہیں کہ ’’ اس طرف طاعون چمکتی جاتی ہے۔ اب اسی کے قریب گائوں ہیں۔ جن میں زور وشور ہو رہا ہے۔ قادیان میں یہ حال ہے کہ لڑکوں اور جوانوں اور بڈھوں کو بھی خفیف سا تپ